وفاقی کابینہ نے کورونا ریلیف پیکج کی منظوری دے دی

وزیر اعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہو گا

فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے کورونا ریلیف پیکج کی منظوری دے دی۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جس میں کورونا وائرس سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے کورونا ریلیف پیکج کی منظوری دے دی جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے مختلف شہروں میں آٹے کی قلت کی شکایات پر برہمی کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نے استفسار کیا کہ جب آٹا وافر مقدار میں موجود ہے تو کون قلت پیدا کر رہا ہے ؟ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ بھی ناقابل قبول ہے، تمام صوبے اس پر کارروائی کریں۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیر فوڈ سیکیورٹی کو فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے تو ایسے افراد کو بغیررعایت سزائیں دیں۔

کابینہ اجلاس میں وفاقی وزرا نے حکومتی اقدامات کی بہتر تشہیر نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے بر وقت اور درست اقدامات کو نمایاں انداز میں پیش نہیں کیا جا سکا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر مراد سعید اور فیصل واوڈا نے بھی معاملہ کابینہ کے سامنے اٹھا دیا اور اجلاس کے دوران ایکسپورٹرز کا مال روکے جانے کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔

وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا کہ رائس ایکسپورٹرز کا 2 ارب ڈالر کا مال خراب ہو رہا ہے جبکہ ایکسپورٹرز کے لیے گزشتہ ہفتے ایس آر او جاری کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن وزیر اعظم کی ہدایات کے باجود تا حال عمل درآمد نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں اسٹیٹ بینک نے قرضوں کی ادائیگی ایک سال تک مؤخر کرنے کی منظوری دے دی

وزیر اعظم عمران خان نے ایکسپورٹرز کا مال روکے جانے کی اطلاعات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹ سمیت ایکسپورٹرز کا مال نہیں روکا جانا چاہیے۔ متعلقہ وزرات اور اعلیٰ حکام معاملے کو فوری دیکھیں۔

کابینہ اجلاس میں ٹرانسپورٹرز کے لیے مخصوص ہوٹلز کھولے جانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ٹرک اڈوں پر ٹرانسپورٹرز کے ہوٹل بند ہیں اور ڈرائیورز کچھ کھا پی نہیں سکتے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز