اٹلی: درست اینٹی باڈیز رکھنے والوں کوکام کرنےکی اجازت دینے پر غور

اٹلی: درست اینٹی باڈیز رکھنے والوں کوکام کرنےکی اجازت دینے پر غور

فائل فوٹو

روم: اٹلی کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں مکمل لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے۔

پورے ملک میں نظام زندگی معطل ہوچکا ہے اور لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اٹلی میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف مؤثر اینٹی باڈیز رکھنے والے افراد کو کام پر جانے کی اجازت دی جائے کیوں کہ کوروناوائرس ان پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

انسانی جسم میں موجود اینٹی باڈیز مختلف بیماریوں اور وائرسز کو جسم میں داخل ہونے سے روکتی ہیں۔ اٹلی کے علاوہ چین، امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں بھی اس طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے۔

اٹلی یورپ کا پہلا ملک تھا جس نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا اور وہاں کورنا کیسز کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

چینی سائندانوں نے کورونا وائرس کیخلاف مؤثر اینٹی باڈیز کی نشاندہی کا دعویٰ کیا ہے اور اس سے کورونا وائرس کی روک تھام اور علاج میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

چین میں کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے لی گئی اینٹی باڈیز کا تجزیہ  جنوری سے شروع کیا گیا تھا۔ 206 مونو کلونل اینٹی باڈیز الگ کی ہیں جو ان کے کہنے کے مطابق وائرس کے خلاف مزاحمت کی مضبوط صلاحیت رکھتی ہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں