کورونا سے دو لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں، سعودی وزیر صحت

کورونا سے دو لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں، سعودی وزیر صحت

ریاض: سعودی عرب میں اگر عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ضروری احتیاطی تدایبر اختیار نہ کی گئیں تو متاثرین کی تعداد دولاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے میں چار ماہ سے ایک سال کا وقت درکار ہوگا۔

سعودی عرب میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 2523 ہوگئی

یہ بات سعودی عرب کے وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتائی ہے۔

خلیجی ملک سے شائع ہونے والے مؤقر انگریزی اخبار’گلف نیوز‘ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر صحت نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی ہے جب کہ ملک میں کورونا وائرس کے 272 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور متاثرین کورونا میں سے تین اشخاص کی اموات ہوئی ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 2795 تک پہنچ گئی ہے۔

ڈاکٹر توفیق الربیعہ کے مطابق کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 41 ہو چکی ہے جب کہ 615 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر صحت نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیا کہ بہت سے افراد ابھی تک کورونا وائرس کے حوالے سے درکار سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے درکار سماجی فاصلے رکھنے پر توجہ نہیں دی جارہی ہے اور آپس کے رابطے ختم نہیں ہو رہے ہیں۔

کورونا وائرس: دنیا میں 78,114 افراد ہلاک، 13 لاکھ 79 ہزار سے زائد متاثر

گلف نیوز کے مطابق ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے درکار احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کا نتیجہ اس کے پھیلاؤ کا بنیادی سبب ہے۔

سعودی عرب کے وزیر صحت نے خبردار کیا کہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں ہونے والے اضافے سے ممکن ہے کہ ہمارا نظام صحت ہی جواب دے جائے۔

عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کی حکومت نے سات ارب سعودی ریال مختص کیے ہیں۔

گلف نیوزکے مطابق وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسے مسلسل بیرون ملک مقیم سعودی عرب کے شہریوں کی جانب سے درخواستیں موصول ہورہی ہیں کہ وہ اپنے وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق اس ضمن میں ان کی اولین ترجیح بزرگ، فوری نوعیت کی توجہ کے مستحق کیسز اور حاملہ خواتین ہیں۔

کورونا: برطانوی وزیراعظم کی طبعیت بگڑ گئی، آئی سی یو منتقل

طریقہ کار کے تحت موجودہ وقت میں بیرون ملک سے سعودی عرب آنے والوں کو دو ہفتے کے لیے قرنطینہ میں قیام کرنا ہوگا۔

سعودی عرب میں فوڈ اور ڈرگ اتھارٹیز نے تصدیق کی ہے کہ جب سے کورونا وائرس کی وبا پھیلی ہے اس وقت سے طبی آلات اور ڈیوائسز کی برآمدات بند کردی گئی ہیں۔

گلف نیوز کے مطابق سعودی عرب کی مقامی فیکٹریاں ہر ہفتے لاکھوں ماسک اور سنیٹائزرز تیار کررہی ہیں تاکہ ملکی ضروریا ت کو پورا کیا جا سکے۔

سعودی عرب کے وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربعیہ کا گزشتہ روز ایک بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد دس ہزار سے دو لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

عرب میڈیا میں شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ اس وقت سعودی عرب کو دو طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ اول یہ کہ لوگ احتیاطی تدابیر کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں اور کرفیو کے اوقات کے بعد آپس کے میل جول کو ترک نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے کورونا متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرا چیلنج یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ سے طبی آلات اور ادویات کی سپلائی ممکن نہیں ہو رہی ہے۔

امریکہ میں کورونا وائرس سے مزید 902 افراد ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے مجموعی طور پر اب تک 15 ارب ریال کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں جن سے اسپتالوں میں کررونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مدد ملے گی۔

انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ سعودی عرب میں آنے والے دنوں میں متاثرین کی جو تعداد انہوں نے بتائی ہے وہ چار اسپیشل میڈیکل جائزوں میں بتائے گئے ہیں اور یہ جائزے سعودی عرب اورعالمی ماہرین نے تیار کیے ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر صحت نے کہا تھا کہ اگر احتیاطی اور حفاظتی تدابیر بھرپور طریقے سے اختیار کی جائیں تو کورونا کے خطرات کا دائرہ کار انتہائی محدود کیا جا سکتا ہے۔

عازمین حج کی منصوبہ بندی سے گریز کریں، سعودی عرب

ڈاکٹر توفیق الرابیعہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ہم نے پہلے ٹھوس سطح پر حفاظتی اقدامات اٹھائے تھے اور دنیا میں ایک مثال قائم کی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز