پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کی درخواست ضمانت مسترد

خورشید شاہ کے گھریلو ملازم میں کورونا وائرس کی تصدیق

فوٹو: فائل

سکھر: سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔

سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے خورشید شاہ کے بیٹے فرخ شاہ کی درخواست ضمانت بھی مسترد کر دی تاہم عدالت نے ریفرنس میں نامزد دیگر افراد کی ضمانتیں منظور کر لیں۔

درخواست ضمانت مسترد ہونے پر خورشید شاہ کے وکلا نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

گزشتہ سال دسمبر میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے خلاف ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں سید خورشید شاہ کی بیگمات ناز بی بی اور طلعت بی بی بھی شامل ہیں۔ خورشید شاہ کے بیٹے ایم پی اے فرخ شاہ، زیرک شاہ، بھتیجے صوبائی وزیر اویس شاہ کا نام بھی ریفرنس میں شامل کیا گیا تھا۔

نیب نے ریفرنس میں خورشید شاہ کے بھتیجے جنید قادر شاہ کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ ریفرنس میں خورشید شاہ کے دوست نثار پٹھان، انکے بیٹے زوہیب میر، ثاقب رضا اور محمد شعیب پٹھان بھی شامل تھے۔

خورشید شاہ کے خلاف ریفرنس میں رحیم بخش اعوان ان کے بیٹے محمد ثاقب اعوان بھی شامل تھے۔ نیب ریفرنس میں خورشید شاہ دوست ٹھیکیدار اکرم خان کا نام بھی شامل تھا۔

نیب ریفرنس میں خورشید شاہ کی چھ سوایکڑ زرعی زمین، پلاٹس، بنگلے اور بینک بیلنس بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

خورشید شاہ کے وکیل مکیش کارڑا  کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ کے خلاف نیب ریفرنس میں زرعی زمینوں، بنگلے اور پلاٹس کی قیمت کا غلط تعین کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں محکمہ بلدیات پنجاب کے افسران لوکل گورنمنٹ سروس میں تعینات

ان کا کہنا تھا کہ پندرہ، بیس سال پہلے خریدی جانے والی زمینوں کی قیمت آج کے حساب سے لگائی گئی ہے۔ نیب ریفرنس میں خورشید شاہ کے بنگلے کی قیمت بہت زیادہ دکھائی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز