امریکی کمیشن نے بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کی سفارش کردی

واسنگٹن: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی اجراء کردہ رپورٹ میں بھارت کو بطور “تشویشناک ملک” نامزد کر کےسخت سفارتی پابندیوں کے اطلاق کی سفارش کر دی ہے۔

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان نے جان بوجھ کر مذہبی آزادی کیخلاف منظم پرتشدد کارروائیوں کی اجازت دی۔ بھارت نے بین الاقوامی مذہبی آزادی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ بھارتی حکومت، اداروں، حکام پر سفارتی، انتظامی پابندیاں عائد کی جائیں۔

امریکی کمیشن نے سفارش کی ہے کہ مذہبی آزادیاں سلب کرنے میں ملوث افراد کے اثاثے منجمد اور ان کی امریکا داخلہ پر پابندی عائد کی جائے۔ بھارتی شخصیات کیخلاف کارروائی کیلئے مالیاتی اور ویزا حکام کو پابند بنایا جائے۔

امریکی کمیشن نے امریکی سفارتخانے کو اقلیتوں اور عبادتگاہوں کو بچانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے روابط بڑھانے کی بھی سفارش کی ہے۔ کمیش نے اقلیتوں کو بچانے کے لیے سول سوسائٹی کی فنڈنگ بڑھانے کا بھی مطالبہ کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: مذہبی آزادیوں سے متعلق امریکی رپورٹ میں بھارت کا پردہ فاش

بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں اقلیتوں کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کے مطابق دو ہزار انیس کے بعد مذہبی آزادی میں تیزی سے کمی ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ شہریت بل سے مسلمان متاثر ہوں گے کیونکہ یوگی ادیتہ ناتھ اور امیت شاہ کا نشانہ مسلمان ہیں۔

امریکی کمیشن نے بابری مسجد پر بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی تنقید کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی، گائے کے تحفظ کے نام پر تشدد نے مسلمانوں پر مظالم کی چھوٹ دے دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فروری دو ہزار بیس میں دہلی میں انتہاپسندوں نے مسلمانوں پر حملے کیے۔ پچاس افراد ہلاک ہوئے جبکہ پولیس بھی بلوائیوں کا ساتھ دیتی رہی ہے۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق صرف مسلمان ہی نہیں بھارت میں عیسائی بھی انتہاپسندوں کے نشانے پر ہیں۔ امریکی رپورٹ کے مطابق عیسائیوں پر سوا تین سو سے زائد حملے ہوئے، انہیں زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود مودی سرکار نے جتھوں کے حملے روکنے کے لیے قانون سازی نہیں کی۔

امریکی کمیشن کی سفارش کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پر پابندیوں کے اطلاق کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوک سَنگھ، پولیس سمیت سرکاری حکام پر بھی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

نریندر مودی پر 2005ء میں بحیثیت وزیر اعلیٰ گجرات بھی سفری، سفارتی اور ویزا پابندیاں لگ چکی ہیں۔ نریندر مودی پر گجرات میں مسلم کش فسادات پھیلانے میں کردار پر پابندیاں لگی تھیں

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز