عالمی ادارہ صحت:کورونا کے پھیلاؤ کی مزید تحقیقات کا مطالبہ

عالمی ادارہ صحت:کورونا کے پھیلاؤ کی مزید تحقیات کا مطالبہ

جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے چین کے شہر ووہان میں جنگلی جانوروں کی مارکیٹ سے کورونا وائرس کی وبا ک پھوٹنے اور اس کے پھیلاؤ سے متعلق مزید تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کورونا: اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد پانچ سو 58 ہو گئی

ہم نیوز کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے فوڈ سیفٹی اور زونیٹک وائرس کے ماہر ڈاکٹر پیٹر بین ایمبیریک نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ 19 چمگادڑ سے پھیلا لیکن کیا یہ بلیوں اور بڑی نسل کے نیولوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے؟ اس ضمن میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈاکٹر پیٹر بین نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ووہان میں جنگلی جانوروں کی مارکیٹ کا کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کردار ہے تاہمم ان کا کہنا تھا کہ یہ کردار کس نوعیت کا ہے فی الحال معلوم نہیں ہے۔

عالمی ادارہ صحت سے تعلق رکھنے والے ماہر ڈاکٹر پیٹر بین جو جانوروں کی بیماریوں کے ماہر ہیں، نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ جانوروں کی مارکیٹ مہلک وبا کے پھیلنے کا ذریعہ تھی؟ یا اس کے ماحول سے اس وبا کو پھیلنے میں مدد ملی؟ اور یا سب کچھ محض اتفاق تھا؟ اس پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

کورونا سے صحت یاب افراد کی سیاستدانوں سے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نے کہا کہ تاحال یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ وائرس زندہ جانوروں سے پھیلا تھا اور یا یہ کہ وہاں آنے جانے والے لوگ اس کے پھیلاؤ کا ذریعہ تھے؟

چین کے شہر ووہان میں جنگلی جانوروں کی ایک مارکیٹ سے کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنا شروع ہوئے تھے۔

کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد چینی حکام نے اس مارکیٹ کو بند کرکے جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی تھی۔

کورونا وائرس کے معاملےچین اور امریکہ کے درمیان جنگ کا خدشہ، رپورٹ

ڈاکٹر پیٹر بین ایمبیریک کے مطابق چمگادڑوں میں یہ وائرس تیزی سے پھیلا لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کون سے جانور ہیں جو اسے انسانوں میں منتقل کرنے کا ذریعہ بنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ امکانات اسی بات کے ہیں کہ یہ وائرس انسانوں میں جانوروں سے منتقل ہوا ہے تاہم اس سلسلے میں بھی سائنسدانوں کو مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تسلسل کے ساتھ یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ یہ مہلک وبا چین کی ایک لیبارٹری سے پھیلی ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ غلطی سے یہ وائرس لیبارٹری سے پھیلا ہے۔

کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 39 لاکھ 32 ہزار سے تجاوز کر گئی

چینی حکام ابتدا ہی سے اس قسم کے تمام الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں اور ان کا واضح مؤقف رہا ہے کہ لگائے جانے والے الزامات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے صرف الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز