فضائی سفر کے دوران کورونا سے بچاؤ کے لیے ڈیوائڈر تیار

فضائی سفر کے دوران کورونا سے بچاؤ کے لیے ڈیوائڈر تیار

پیرس: فرانسیسی ڈیزائنر کمپنی نے فضائی سفر کے دوران کورونا وائرس سے انسانوں کو بچانے کے لیے ڈیوائڈر تیار کرلیا۔

فرانسیسی کمپنی ارتھ بے کے مطابق جہازوں کی نشتوں کو تقسیم کرنے والے آلے سستے ہیں اور انہیں درمیان میں نصب کرنا بھی آسان ہے جبکہ پورے کیبن کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کے مقابلے میں یہ تجویز زیادہ قابلِ عمل ہے۔

پلین بے نامی ڈیوائڈر کے دو حصّے ہیں، ایک حصّہ درمیانی نشست پر اور دوسرا سر اور پشت پر پھیلا ہوا ہے جو ایک مسافر کو موثر طریقے سے دوسروں سے سماجی دوری برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔

فرانسیسی ڈیزائننگ کمپنی سے قبل اطالوی کمپنی نے بھی ایسی نشتوں کی تجویز پیش کی تھی جس میں سماجی دوری برقرار رکھی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: ہوائی جہاز کاسفرماضی کی طرح شائد دوبارہ ممکن نہ ہو سکے

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاو کے بعد زندگی گزارنے کے انداز بھی تبدیل ہوچکے ہیں اور ایسے ماحول میں ہوائی جہاز کا سفر ماضی کی طرح شائد دوبارہ ممکن نہ ہو سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسافروں کو فلائٹ ٹائم سے تقریبا چار گھنٹے پہلے ایئرپورٹ پر پہنچنا ہوگا۔ مستقبل میں فضائی سفر کے لیے پروٹوکول اور انداز بھی نئے ہوں گے۔ ایئرپورٹ سے طیارے تک پہنچنے کے لیے چار گھنٹے کا سفر طے کرنا پڑسکتا ہے۔

ماہرین نے تجاویز دی ہیں کہ چیک اِن ایریا میں داخل ہونے سے پہلے مسافروں کو جراثیم کش مشین اور جسمانی درجہ حرارت چیک کرنے کے اسکینر سے گزرنا پڑے گا۔

مسافر طیارے میں کیبن بیگز نہیں لے جاسکیں گے اور فضائی عملے کو ایئرلائن کے یونیفارم کے ساتھ ساتھ حفاظتی لباس بھی زیب تن کرنا ہوگا۔

جہاز کی روانگی سے قبل پورے طیارے میں جراثیم کشی کا اسپرے چھڑکنا ہوگا اور ہر آدھے گھنٹے کے بعد ہاتھوں کو جراثیم کش صابن یا لوشن سے صاف کرنا ہوگا۔

ایسی تجویز بھی زیر غور ہے جس کے تحت مسافروں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے ساتھ میڈیکل سرٹیفکیٹ رکھیں جس میں ان کی قوت مدافعت کی نشاندہی ہو سکے۔ اس تمام عمل کے نتیجے میں پروازیں تو تاخیر کا شکار ہوں گی لیکن حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کے ممالک سفری پابندیاں ختم کرنے کی کوشش کریں، جی ٹوئنٹی اجلاس کا مطالبہ

ایئر کینیڈا کی طرف سے جسم کا درجہ حرارت معلوم کرنا، چہرے پر ماسک پہننا اور سماجی فاصلہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور یہ پالیسی جون تک جاری رہے گی۔

کورونا وائرس کی وجہ سے متعدد ایئرلائنز اپنے طیاروں میں دوران پرواز مسافروں کے درمیان نشست خالی رکھنے پر پہلے سے عمل پیرا ہیں۔

وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے سبب طیاروں کی مکمل صفائی کرنے، دوران پرواز طیارے میں مسافروں کے درمیان حفاظتی فاصلے کو برقرار رکھنے، چہرے پر لازمی ماسک پہننے، اور روانگی سے قبل ایئر پورٹ میں کورونا وائرس کی تشخیص کے سلسلے میں مسافروں کا ٹیسٹ کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز