کورونا کے متعلق اقدامات: عدالت این ڈی ایم اے کی رپورٹ سے مطمئن نہیں

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کی کورونا وائرس کے متعلق اٹھائے گئے اقدمات کی رپورٹ پر عدم اطمنان کا اظہار کردیا ہے۔

کورونا وائرس کے متعلق ازخود نوٹس کیس میں عدالت نے کہا ہے کہ خرچ رقم پر این ڈی ایم اے حکام اور اٹارنی جنرل کو الگ سے سنا جائے گا۔

عدالت کے مطابق بظاہر پاکستان میں کورونا وبا کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا۔ دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کورونا سے بظاہر زیادہ متاثر نہیں ہوا۔ ملک میں وبا کی وہ صورتحال نہیں جس پر اس طرح سے پیسہ خرچ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ کا ہفتہ اور اتوار کو بھی چھوٹی مارکیٹیں کھولنے کا حکم

چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر سال اسلام آباد میں پولن سے ایک ہزار اموات ہوتی ہیں، پاکستان میں امراض قلب، جگر، گردوں جیسی دیگر بیماریاں بھی ہیں۔

معزز جج نے کہا کہ عدالت توقع کرتی ہے حکومت صرف ایک بیماری پر سارا پیسہ خرچ نہیں کرے گی۔ عدالت یہ توقع کرتی ہے کہ حکومت اس طرح تمام اداروں کو مفلوج نہیں کرے گی۔

سپریم کورٹ میں کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے نے رپورٹ جمع کرائی جس کے مطابق حکومت کی جانب اس ادارے کیلئے 25.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزارت صحت نے 50 ارب روپے مختص کیے جو تاحال جاری نہیں کیے گئے،ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے این ڈی ایم کو 8 ارب روپے ملے۔ چینی حکومت کی جانب سے 64 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی

رپورٹ کے مطابق این ڈی ایم اے امداد سامان کی صورت میں وصول کرتی ہے رقم نہیں۔ این ڈی ایم اے آڈٹ کرانے کے لیے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے درخواست کر چکی ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ تفتان، چمن اور طورخم پر 1200 پورٹ ایبل کنٹینر تیار کیے گئے ہیں۔ تفتان پر 600، چمن 300 اور 300 طورخم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

تفتان پر1300 ، چمن 900 اور طورخم پر 1200 افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے۔ طورخم پر قرنطینہ مرکز کے لیے 300 کمرے تعمیر کر لیے گئے ہیں۔ 1200 اضافی کمرے تعمیر کرنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

چمن میں 300 کمروں میں 130 زیر تعمیر ہیں، تفتان میں 600 میں سے 202 تکمیل کے قریب ہیں، لوکل ملٹری اتھارٹی کے مطابق مزید کمروں کی ضرورت نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز