چیئرمین نیب نے اکرم خان درانی کے خلاف تحقیقات کی منظوری دے دی

اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کا اجلاس 23 ستمبر کو طلب کر لیا گیا

اسلام آباد: چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی کے خلاف تحقیقات کی منظوری دے دی۔

نیب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی کے علاوہ آصف زرداری کی پولیٹیکل سیکریٹری رخسانہ بنگش کے خلاف انکوائری کی بھی منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے وہی پوچھا جو میں چاہتا تھا پوچھے، شاہد خاقان عباسی

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے وزارت خارجہ کے افسران کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔

نیب اعلامیہ کے مطابق ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کا الزام ہے، ملزمان نے جکارتہ میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارت فروخت کی۔

ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں سینئر جوائنٹ سیکریٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ عارف ابراہیم کے خلاف بھی تحقیقات کی منظوری دی گئی، ملزم پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل شریف خاندان کیخلاف نئے ریفرنسز کی سفارشات منظوری کے لیے چیئرمین نیب جسٹس (ر)  جاوید اقبال کو بھجوائی گئی تھیں۔

ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز کی سفارشات بھجوائی گئیں۔ ریفرنسز منی لانڈرنگ، چودھری شوگر ملز اور اثاثہ جات سے متعلق ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے قبل نیب لاہور کی جانب سے بھیجوائی گئی سفارشات کے تمام پہلووَں کا جائزہ لیا جانا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف پر لگائے گئے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں، محمد زبیر

ذرائع کے مطابق شریف خاندان کے خلاف ریفرنس میں 16 ملزمان، 4 وعدہ معاف گواہ اور 100 گواہان شامل ہیں۔

نیب کے نئے ریفرنسز میں مرکزی ملزمان میں سابق وزیراعظم نوازشریف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز