پاور سیکٹر نے سکوک بانڈز کے ذریعے 200 ارب روپے جمع کرلیے

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے گردشی قرضے بتدریج ختم کرنے کے لیے جاری کیے گئے اسلامی سکوک بانڈز کے ذریعے 200 ارب روپے جمع کرلیے۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق یہ رقم کبور (Kibor) ریٹ سے بھی کم شرح پر جمع کی گئی ہے. اسلامی سکوک بانڈز پاور سیکٹر کے لیے مہنگے قرضے کا متبادل ہوں گے۔

ترجمان  کے مطابق سکوک بانڈز کے اجراسے 10 سال میں 19 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق وزیر توانائی عمر ایوب سیکریٹری پاور کی جانب سے وزارت خزانہ کے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ اس حوالے سے وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کردار قابل تعریف ہے۔

گزشتہ سال 24 اکتوبر کر ملکی تاریخی میں پہلی بار اسٹاک مارکیٹ میں 200 ارب مالیت کے انرجی سکوک بانڈز جاری کردیے گئے تھے۔ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق انرجی سکوک 10 سال کی مدت کے لیے اجارہ کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پہلی بار 200 ارب مالیت کے انرجی سکوک بانڈز کے  اجرا دراصل شریعہ کمپلائنٹ فنانشنل انسٹرومنٹ تھا۔

ایس ای سی پی کا کہنا تھا کہ 200 ارب کا سکوک ملکیتی کمپنی پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کی جانب سے کیا گیا۔ سکوک کے اجرا کا مقصد توانائی کے شعبے میں سرمائے کی فراہمی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کاروبار کرنے کے لیے آسانیاں فراہم کرنے والے 10 ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ عالمی بینک کی ڈوئنگ بزنس رپورٹ 2020  میں پاکستان کی رینکنگ میں 28 درجے بہتر ہوکر 108 ہوگئی تھی۔

رپورٹ میں انڈیکس میں پاکستان کو مجموعی طور پر اکسٹھ نمبر حاصل ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال ہونے والی پارلیمان کی ایک خصوصی کمیٹی میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ  کمپنی بنانے کا واحد مقصد گردشی قرضے ختم کرنا تھا جو بظاہر ناکام رہا۔ بلوں کی عدم ادائیگی کے باوجود لوڈ شیڈنگ نہ کرنے سے گردشی قرضوں میں سالانہ 150 ارب کا اضافہ ہوتا رہا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز