پاکستان نے بیرونی قرض کی مد میں 15 کروڑ 61 لاکھ ڈالر واپس کیے

زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ ڈالر سے زائد کا اضافہ

کراچی: پاکستان نے پچھلے ایک ہفتے کے دوران بیرونی قرضوں کی مد میں 15 کروڑ 61 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کردی۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق بیرونی قرض کی ادائیگی کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر 12 ارب 13 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

اسٹیٹ بینک اعلامیہ کے مطابق  اس وقت کمرشل بینکوں کے پاس 6 ارب 49 کروڑ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملکی مجموعی ذخائر 15 مئی تک 18 ارب 16 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں۔

اس سے قبل 14 اپریل کو پاکستان نے بیرونی قرض کی مد میں 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ادا کیے تھے، جس کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر کم ہوکر 12 ارب 27 کروڑ ڈالر رہ گئے تھَے۔

اس سے قبل مرکزی بینک نے کہا تھا کہ مالی سال 19-2020 کے پہلے نو ماہی مین جولائی سے اپریل کے دوران بیرون ملک سے 18 اعشاریہ 78 ملین ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔

اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق مالی سال 18-2019 کے اس دورانیے میں 17 اعشاریہ 80 ملین ڈالرکی ترسیلات زرموصول ہوئی تھیں۔

اسٹیٹ بینک اعلامیہ کے مطابق اپریل 2020 کے دوران ترسیلات زرکی مالیت 1اعشاریہ 790 ملین ڈالررہی تھی۔

مزید پڑھیں: سال2019:مالی معاملات کی فیصلہ سازی پر آئی ایم ایف کا غلبہ رہا، رپورٹ

گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کے تحفظ کے لیے مختلف بینکوں نے 30 اپریل تک 209 کمپنیوں کو 23 ارب روپے کے قرضہ جاری کیے۔

اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ قرضوں سے 2 لاکھ 20 ہزار ورکرز کی ملازمتوں کو تحفظ ملے گا۔

اسٹیٹ بینک سے جاری بیان کے 1100 کمپنیوں کی 90 ارب روپے کے قرضوں کی درخواستیں زیر غور ہیں۔ درخواستوں کی منظوری سے 8لاکھ 50 ہزار ملازمتوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔

اسٹیٹ بینک کے ملازمین کو 3 ماہ تک برطرف نہ کرنے والی کمپنیوں کو 3 فیصد شرح سود پرقرض فراہم کررہا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز