پی آئی اے کا مسافر طیارہ کراچی کے رہائشی علاقے پر گر کر تباہ، متعدد افراد جاں بحق


قومی ایئرلائن پی آئی اے کا مسافر طیارہ کراچی میں لینڈنگ سے کچھ دیر قبل رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوگیا، جس میں خواتین سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ نے پی آئی اے طیارہ حادثے میں 66 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق صوبائی محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں لائی جانے والی 66 نعشوں میں سے پانچ کی شناخت ہوچکی ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق جناح اسپتال میں 41 اور سول اسپتال میں 25 لاشیں منتقل کردی گئی ہیں۔

دریں اثناء ایدھی فاوَنڈیشن کے مطابق طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 72  افراد کی لاشیں اسپتالوں میں منتقل کی جا چکی ہیں۔

اس سے قبل وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا تھا کہ طیارہ حادثے میں جاں بحق 19 افراد کی لاشیں جناح اسپتال اور 15 لاشیں سول اسپتال کراچی لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ جناح اسپتال میں 3 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے۔

صوبائی وزیرصحت کے مطابق دارالصحت میں خالد نامی شخص جبکہ  سول اسپتال میں زبیرنامی شخص زیرعلاج ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کےمطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 میں 99 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

مسافر طیارہ لاہور سے کراچی کیلئے روانہ ہوا تھا اور کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوا۔

پی آئی اے کے طیارے نے حادثے سے ایک گھنٹہ30 منٹ قبل لاہور ایئر پورٹ سے اڑان بھری تھی اور کراچی ائیر پورٹ پر لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے گرکر تباہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: حادثے کا شکار ہونیوالے طیارے میں سوار مسافروں کے نام

حادثے سے کچھ دیر قبل کپتان کی گفتگو

ذرائع کے مطابق حادثے سے قبل طیارے کے کپتان نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو مے ڈے کال کی اور بتایا کہ طیارے کے انجن خراب ہو چکے ہیں۔ کپتان نے اے ٹی سی کو بتایا کہ ہم بائیں جانب ٹرن لے رہے ہیں۔ مے ڈے کال کے بعد طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: طیارے کے پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے درمیان آخری گفتگو

ترجمان پی آئی اے نے ہم نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی ایئربس320 نے لاہور سے اڑان بھری تھی۔

ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کے آپریشنل ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے اور ایمرجنسی کال سنٹر بھی فعال کر دیا گیا ہے۔

عملے کے ارکان

طیارے میں پائلٹ سجاد گل اور فرسٹ آفیسرعثمان اعظم موجود تھے۔ عملے کے ارکان میں فرید احمد چودھری، عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان رفیق، مدیحہ ارم، آمنہ عرفان اوراسماشہزادی شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق مسافر طیارے نے90 سے زائد مسافر سوار تھے۔ حادثہ کے بعد کراچی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن روک دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثہ: پاک فوج اور سندھ رینجرز امدادی کارروائیوں میں مصروف

وزیراعظم عمران خان نے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں اور اس وقت یہ ہماری اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں  کےلیے دعائے مغفرت اور اہلخانہ سے تعزیت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ واقعے کی فوری انکوائری کرائی جائے گی۔

’جہاز میں ٹیکنیکل مسئلہ پیدا ہوا‘

پاکستان ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن(پالپا) کےجنرل سیکریٹری پالپاعمران ناریجو نے ہم نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ  جہاز میں ٹیکنیکل مسئلہ پیدا ہوا تھا۔ قیمتوں جانوں کا ضیاع مذاق نہیں ہے ہمیں اس کا جواب دینا ہے۔

’پائلٹ کو کہا گیا دونوں رن وے خالی ہیں‘

سی ای او پی آئی اے ایئر مارشل ارشد ملک نے ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اے ٹی سی کی طرف سے پائلٹ کو کہا گیا تھا کہ دونوں رن وے خالی ہیں آپ کسی بھی رن وے پر لینڈ کرسکتے ہیں۔

سی ای او پی آئی اے کے مطابق پائلٹ نے کہا جہاز میں ٹیکنیکل مسئلہ ہے اور گو راؤنڈ جانے کا فیصلہ کیا۔ تحقیقات کے بعد جہاز میں خرابی کا پتہ چل سکے گا۔

وزیر ہوابازی غلام سرور نے بھی پی آئی اے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ
جلد از جلد حادثے کی انکوائری کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طیارے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو امداد دی جائے گی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پی آئی اے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کیا اور فو ج کو ریسکیو آپریشن میں سول انتظامیہ کے ساتھ ہرممکنہ تعاون کی ہدایت کی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے علاقے کوگھیرے میں لے لیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی کوئیک ری ایکشن فورس اور پاکستان رینجرز سندھ موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ پاک فوج اور سندھ رینجرزامدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔

 

معاونت
متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز