وزیراعظم کا پی آئی اے طیارہ حادثے پر اظہار افسوس، تحقیقات کی یقین دہانی

پورٹ قاسم اتھارٹی کے منافع میں دو سال کے دوران ریکارڈ اضافہ

فوٹو: فائل

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے طیارہ حادثے پر گہرے دکھ و صدمے کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی فوری انکوائری کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ  پی آئی اے کے چیئرمین ارشد ملک سے رابطے میں ہوں، وہ کراچی روانہ ہو چکےہیں۔

کراچی: پی آئی اے کا مسافر طیارہ رہائشی علاقے پر گر کر تباہ، متعدد جاں بحق

ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو اینڈ ریلیف ٹیمیں موقع پر موجود ہیں،واقعے کی فوری انکوائری کرائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ  سانحے میں جاں بحق ہونے والوں لیے دعائے مغفرت اور اہلخانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔

خیال رہے کہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کا مسافر طیارہ کراچی میں لینڈنگ سے کچھ دیر قبل رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوگیا ہے جس سے متعدد افراد جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 میں 99 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے تاہم جاں بحق افراد کے حتمی اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔

مسافر طیارہ لاہور سے کراچی کیلئے روانہ ہوا تھا اور کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوا۔

پی آئی اے کے طیارے نے حادثے سے ایک گھنٹہ30 منٹ قبل لاہور ایئر پورٹ سے اڑان بھری تھی اور کراچی ائیر پورٹ پر لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے گرکر تباہ ہوا۔

حادثے سے کچھ دیر قبل کپتان کی گفتگو

ذرائع کے مطابق حادثے سے قبل طیارے کے کپتان نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو مے ڈے کال کی اور بتایا کہ طیارے کے انجن خراب ہو چکے ہیں۔ کپتان نے اے ٹی سی کو بتایا کہ ہم بائیں جانب ٹرن لے رہے ہیں۔ مے ڈے کال کے بعد طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔

ترجمان پی آئی اے نے ہم نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی ایئربس320 نے لاہور سے اڑان بھری تھی تاہم مزید معلومات کچھ دیر بعد پریس کانفرنس میں بتائی جائیں گی۔

ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کے آپریشنل ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے اور ایمرجنسی کال سنٹر بھی فعال کر دیا گیا ہے۔

عملے کے ارکان

طیارے میں پائلٹ سجاد گل اور فرسٹ آفیسرعثمان اعظم موجود تھے۔ عملے کے ارکان میں فرید احمد چودھری، عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان رفیق، مدیحہ ارم، آمنہ عرفان اوراسماشہزادی شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق مسافر طیارے نے90 سے زائد مسافر سوار تھے۔ حادثہ کے بعد کراچی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن روک دیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں اور اس وقت یہ ہماری اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں لیے دعائے مغفرت اور اہلخانہ سے تعزیت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ واقعے کی فوری انکوائری کرائی جائے گی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پی آئی اے طیارہ حادثے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ انہوں نے فوج کو ریسکیو کے لیے ہرممکنہ تعاون کی ہدایت ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی کوئیک ری ایکشن فورس اور پاکستان رینجرز سندھ موقع پر پہنچ گئے۔

پاک فوج اور سندھ رینجرزامدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔ ہیلی کاپٹرزکےذریعے امدادی کاموں اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثے کا کوئی جاں بحق یا زخمی اب تک اسپتال نہیں لایا گیا تاہم  صورتحال کے پیش نظر جناح اسپتال میں انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز