پی آئی اے طیارہ حادثہ: ابتدائی رپورٹ ایوی ایشن حکام کو پیش

طیارے کے پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے درمیان آخری گفتگو

فائل فوٹو

کراچی: قومی ائیرلائن (پی آئی اے) طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ سول ایوی ایشن حکام کو پیش کردی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیارہ لینڈنگ گیئرجام ہونے کے بعد پرندوں سے بھی ٹکرایا۔ لینڈنگ گیئرخراب ہونےکےبعدپائلٹ طیارےکوقواعد کے مطابق لینڈنگ کیلیے نیچے لائے۔

ذرائع نے رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس دوران بدقسمت طیارے سے ایک سے زیادہ پرندے ٹکرائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق اسی دوران طیارےکے دونوں انجن جزوی طور پر بند ہوگئے۔ انجنون سے کم طاقت ملنے کے سبب جہاز کی بلندی انتہائی کم ہوتی گئی۔

ذرائع کا ابتدائی رپورٹ کے حوالے سے کہنا ہے کہ کچھ ہی دیر میں جہاز اپنی بلندی برقرار نہ رکھ سکا۔اس موقع پر پائلٹ نے مے ڈے کی کال بھی دے دی۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ رن وے پر پہنچنے سے پہلے ہی آبادی والےعلاقےمیں مکانات سے ٹکرا گیا۔ جس وقت طیارہ مکانات کی بالائی منزل سے ٹکرایا اس وقت وہ گلائیڈ کر رہا تھا۔

خیال رہے کہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کا مسافر طیارہ آج دن کے وقت کراچی میں لینڈنگ سے کچھ دیر قبل رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوگیا، جس میں خواتین سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: حادثے کا شکار ہونیوالے طیارے میں سوار مسافروں کے نام

وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے مطابق طیارہ حادثے میں جاں بحق 19 افراد کی لاشیں جناح اسپتال اور 15 لاشیں سول اسپتال کراچی لائی گئی ہیں۔ جناح اسپتال میں 3لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے۔

صوبائی وزیرصحت کے مطابق دارالصحت میں خالد نامی شخص جبکہ  سول اسپتال میں زبیرنامی شخص زیرعلاج ہے۔

اس سے قبل جناح اسپتال کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی تاہم کسی کے شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کےمطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 میں 99 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

مسافر طیارہ لاہور سے کراچی کیلئے روانہ ہوا تھا اور کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوا۔

پی آئی اے کے طیارے نے حادثے سے ایک گھنٹہ30 منٹ قبل لاہور ایئر پورٹ سے اڑان بھری تھی اور کراچی ائیر پورٹ پر لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے گرکر تباہ ہوا۔

ذرائع کے مطابق حادثے سے قبل طیارے کے کپتان نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو مے ڈے کال کی اور بتایا کہ طیارے کے انجن خراب ہو چکے ہیں۔ کپتان نے اے ٹی سی کو بتایا کہ ہم بائیں جانب ٹرن لے رہے ہیں۔ مے ڈے کال کے بعد طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز