طیارہ حادثہ: فرانسیسی ٹیم نے جائے حادثہ کا معائنہ مکمل کرلیا

کراچی: طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے کیلئے فرانس سے آنے والی 11 رکنی نے ماڈل کالونی میں اس مقام کا جائزہ لیا ہے جہاں جہاز گرکر تباہ ہوا تھا۔ ٹیم نے اس رن وے کا معائنہ بھی کیا جہاں پی آئی اے کے مسافر طیارے نے لینڈنگ کرنی تھی۔

غیر ملکی ٹیم کے ہمراہ پی آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم اور ائیر فورس کے ماہرین شامل بھی شامل تھے جنہوں نے ایک گھنٹے سے زائد جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔

کنٹرول ٹاور اور پائلٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ ٹیم نے رن وے پر جاکر اس مقام کا جائزہ لیا جہاں جہاز نے پہلے لینڈنگ کی کوشش کی تھی۔

فرانسیسی ماہرین خصوصی پرواز اے آئی بی1888سے کراچی پہنچے تھے۔ سول ایوی ایشن حکام فرانسیسی ماہرین کو جہاز حادثے کی جگہ کا دورہ کرایا۔ غیر ملکی ماہرین پاکستان کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو تکنیکی معاونت بھی فراہم کریں گے۔

سول ایوی ایشن اورپی آئی اے کےمتعلقہ افسران کو بھی جائےحادثہ پر طلب کیا گیا تھا۔ سی اے اے کےفائرڈیپارٹمنٹ، فلائٹ سیفٹی اورانجینئرنگ کے افسران نے بریفنگ بھی دی۔

ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈانویسٹی گیشن کی ٹیم بھی ایئربس ٹیم کےہمراہ موجود بھی۔ ایئربس کی ٹیم نےحادثے کےشکارطیارے کےملبےکا معائنہ کیا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے طیارے کے انجنوں، لینڈنگ گیئر، ونگز اور فلائٹ کنٹرول سسٹم کا جائزہ لیا ۔ ٹیم نےطیارہ ٹکرانےسےٹوٹنےوالےگھروں کابھی معائنہ کیا

فرانسیسی ماہرین 16 گھنٹے تحقیقات کرکے آج رات 10 بجے روانہ ہوجائے گی اور حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا بلیک باکس اپنے ساتھ لے جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے طیارہ حادثہ: 41 میتوں کی شناخت ہو گئی

دوسری جانب حکومت کی جانب سے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیے جانے والے ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹی گیشن بورڈ نے بھی اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور جائے حادثہ سے شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔

تحقیقات میں معاونت کے لیے ایئربس نے ایئر کریش کی تفتیش میں مہارت رکھنے والی دس رکنی ٹیم بھی معاونت کے لیے بورڈ سے منسلک کردی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی میں کسی متعلقہ ادارے کے افراد شامل نہیں ہوں گے اور متعلقہ ادارے صرف طلب کی گئی معلومات یا دستاویزات اور ریکارڈ فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے طیارہ حادثہ: جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 10لاکھ روپے دینے کا فیصلہ

پی آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان شفاف ترین تحقیقات کرانا چاہتے ہیں اور اس ہم تحقیقات پہ کسی ادارے یا گروہ کو اثرانداز نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی خواہش ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ قلیل مدت میں منظر عام پرلائی جائے۔

یاد رہے کہ22 مئی کو پی آئی اے کا مسافر طیارہ کراچی میں لینڈنگ سے کچھ دیر قبل رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 92  مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے۔ حادثے میں عملے سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز