کورونا: 50 فیصد پاکستانی بیروزگار ہونے کے خوف کا شکار ہیں، سروے

پنجاب میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر

فائل فوٹو

اسلام آباد: ایک سروے کے مطابق کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونی والی صورتحال کی وجہ سے 51 فیصد پاکستانی آئندہ آنے والے چھ ماہ کے دوران بیروزگار ہونے کے خوف کا شکار ہیں۔

معروف بین الاقوامی ریسرچ کمپنی آئی پی سوس نے کورونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق پاکستان کے عوام میں سروے کا انعقاد کیا ہے۔

سروے میں پاکستان کے چاروں صوبوں، کشمیر و گلگت بلتستان کے لوگوں سے مختلف سوالات کئے گئے ہیں۔

پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں88 اموات، مجموعی تعداد1483ہوگئی

سروے کے مطابق آئندہ آنے والے چھ ماہ کے دوران ہر دو میں سے ایک پاکستانی اپنا روزگار یا نوکری ختم ہونے کے حوالے سے خوف کا شکار ہے۔

ایسے لوگوں کا تناسب سب سے زیادہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں تھا جہاں 57 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اگلے چھ ماہ میں اپنا روزگار کھو دیں گے۔

سندھ اور پنجاب میں 52 فیصد ، خیبر پختونخوا میں 50 فیصد، جبکہ سروے کے مطابق بلوچستان کی 46 فیصد عوام اپنا ذریعہ معاش کھونے کے ڈر میں مبتلا ہیں۔

سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کے کوویڈ 19 سے پیدا ہونی والی صورتحال میں58 فیصد یا ہر پانچ میں سے تین پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حکومتی امداد کے مستحق ہیں۔

ایسے لوگوں کا تناسب سب سے زیادہ بلوچستان میں تھا جہاں 66 فیصد یا دو تہائی عوام خود کو حکومتی امداد کی مستحق سمجھتی ہے۔

سندھ میں 60 فیصد جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 58 اور 57 فیصد لوگوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ وہ حکومتی امداد کے مستحق ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کے گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ ڈگری رکھنے والے 37 فیصد لوگوں کا بھی یہ خیال ہے کے انہیں حکومتی امداد ملنی چاہیے۔

کورونا: احتیاط نہ کی گئی تو اسپتالوں میں جگہ ختم ہو جائے گی، میئر کراچی

اپریل کے بعد سے پاکستانیوں کا حکومت پر اعتماد بڑھ گیا ہے کہ وہ مستحق افراد تک امداد پہنچا رہے ہیں۔

سروے کے مطابق پاکستان کے عوام میں کورونا سے متعلق پائے جانے والے خوف میں ہر گزرتے ماہ کے ساتھ کمی دیکھنی میں آئی ہے۔

سروے میں لوگوں سے سوال کیا گیا ہے کہ وہ کورونا وائرس یا 19-COVID سے کس حد تک واقف ہیں؟ 47 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ بہت اچھی طرح کورونا سے متعلق معلومات رکھتے ہیں، 39 فیصد نے کہا کہ مناسب حد تک، جبکہ 13 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ کورونا سے متعلق زیادہ واقف نہیں ہیں- ایک فیصد کا کہنا تھا کہ وہ کورونا سے متعلق بالکل بھی آگاہ نہیں ہیں۔

وبائی مرض سے بچاؤ اور حفاظتی تدابیر سے متعلق بھی لوگوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ اس سے متعلق لوگوں سے سوال کیا گیا کہ آپ نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے کون کون سے حفاظتی اقدامات کئے ہیں؟68 فیصد لوگوں کے مطابق وہ گھروں میں داخل ہونے کے بعد ہاتھوں کو دھوتے ہیں، 79 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ باہر جاتے وقت ماسک کا استعمال کرتے ہیں۔

50 فیصد ہاتھ ملانے سے گریز کرتے ہیں جبکہ 35 فیصد لوگ ہجوم والی جگہوں میں جانے سے اجتناب برتتے ہیں۔ 25 فیصد اشخاص نے ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے کھانے ترک کر دیئے ہیں جبکہ 17 فیصد افراد نے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا بھی کم دیا ہے۔

کورونا سے متعلق آگاہی حاصل کرنے کے لیے ہر10 میں سے 8 پاکستانی سوشل میڈیا کی نسبت لوکل نیوز چینلز اور مذہبی مراکز کی جانب سے دی گئی معلومات پرزیادہ یقین رکھتے ہیں۔

پاکستان کے چاروں صوبوں میں ہر پانچ میں سے تین باشندوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ انسداد کورونا کے لیے حکومتیں اچھی کارکردگی دکھا رہی ہیں تاہم سروے کے مطابق  ہر پانچ میں سے تین لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کی وجہ سے کورونا کیسز اور اموات میں مزید اضافہ ہو گا۔

پاکستان کی بیشتر عوام کو یہ یقین ہے کہ مذہب کی بہتر پیروی انہیں کورونا وائرس کی بیماری سے بچائے رکھی گی- ان میں سے 69 فیصد کا کہنا تھا کے دن میں پانچ وقت وضو کرنا انہیں اس وبا سے بچا سکتا ہے جبکہ 58 فیصد کا یہ ماننا ہے کے باجماعت نماز پڑھنے سے یہ مرض نہیں پھل سکتا۔

دوسری طرف سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کے ایک تہائی پاکستانی عوام کورونا وائرس کے متعلق سازشی نظریات پربھی یقین رکھتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی پر ہر دو میں سے ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی معیشت اور کاروبار میں بہتری آئی گی جبکہ 50 فیصد لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

آنے والے ہفتوں کے دوران ہر دس میں سے چھ پاکستانی اپنے بچوں کو دوبارہ اسکول بھیجنے پر تیار نہیں ہیں لیکن 50 فیصد افراد دوبارہ اپنے کاموں پر جانا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز