کورونا وائرس: ڈاکٹرز کا سندھ حکومت پر جھوٹے دعووں کا الزام

کورونا وائرس، صدی کی خطرناک ترین وبا کا ایک سال مکمل

فوٹو: فائل


کراچی: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کے سیکرٹری ڈاکٹر محبوب نے الزام لگا ہے کہ اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز موجود نہیں، سندھ حکومت جھوٹے دعوے کر رہی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نرسز اور ڈاکٹروں کے لیے سروس اسٹرکچر تشکیل دیا جائے۔ تمام ڈاکٹرز کو بغیر ہتھیاروں کے میدان جنگ میں بھیجا جارہا ہے۔ ڈاکٹرز کو این 95 ماسک فراہم نہیں کیے گئے۔

ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکس نے قومی ادارہ برائے اطفال میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کورونا عالمی ایمرجنسی اختیار کر چکی ہے۔

ڈاکٹر محبوب نے کہا ایسے وقت میں جب کورونا وائرس عالمی وبا بن چکا ہے، لاک ڈاوَن میں نرمی سے عام عوام کے ساتھ ڈاکٹرز بھی متاثر ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: سندھ میں بزرگ سب سے زیادہ متاثر

جنرل سیکریرٹری وائی ڈی اے نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈکس کو ہیلتھ الاوَنس دیا جائے۔ سینکڑوں ہیلتھ ورکرز اپنے خاندان کے ہمراہ گھروں میں آئسولیٹ ہیں۔

خیال رہے کہ سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد 32 ہزار910 تک پہنچ گئی ہے اور 555 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی کورونا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 453 اموات ہیں اور26 ہزار281 کیسز رپورٹ ہوئے۔

سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں خواتین کی شرح 28 فی صد ہے۔ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے سبب جاں بحق ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد50 سال سے زائد عمر والے افراد کی ہے۔

صوبہ سندھ میں اب تک 1128 بچوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آچکا ہے، دس سال سے کم عمر بچوں میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی شرح خطرناک ہے۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات ہوم آئسولیشن کے دوران ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 11 سے 20 کے 8 اور ایک سے 10 سال کے 2 بچے بھی وائرس سے جاں بحق ہوئے ہیں۔


متعلقہ خبریں