‘سینٹرل جیل کراچی میں عزیر بلوچ کی جان کو خطرہ ہے’

وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ سینٹرل جیل کراچی میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ اور لیاری امن کمیٹی کے سابق سربراہ عزیر بلوچ کی جان کو خطرہ ہے۔

اپنے ایک ٹوئٹ میں علی زیدی نے کہا کہ عزیر بلوچ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں اہم گواہ ہیں۔ عزیر بلوچ نے بااثرسیاستدانوں اور پولیس افسروں کے نام لیے ہیں۔ عزیر بلوچ نے ان سیاستدان اورپولیس افسران کا نام لیا ہے جو گینگ وارکاحصہ رہے ہیں یا جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ خطرے کے پیش نظرعزیر بلوچ کی سیکیورٹی رینجرز کے حوالے کی جائے۔

خیال رہے کہ 6  اپریل کو ملٹری کورٹ نے لیاری امن کمیٹی کے سابق سربراہ عزیر بلوچ کو  12سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ہم نیوز کے مطابق عزیر بلوچ کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت 12سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا سنائے جانے کے بعد عزیر بلوچ کو سینٹرل جیل کراچی منتقل کردیا گیا تھا۔

ہم نیوز کے مطابق عزیر بلوچ پر سندھ میں درج دیگر مقدمات بھی چلیں گے۔

مزید پڑھیں:  بتایا جائے عزیر بلوچ کو ٹرائل کورٹ میں کیوں پیش نہیں کیا جا رہا، عدالت

یاد ہے رہے کہ عزیر بلوچ کو 30  جنوری 2016  میں  رینجرز نے  گرفتار کیا تھا۔ ستمبر 2013 میں کراچی آپریشن شروع ہوا تو عزیر بلوچ علاقے سے فرار ہوگیا تھا۔

عزیر بلوچ  سے تحقیقات کے لیے 6 افسروں  پر مشتمل  جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔

گزشتہ سال سندھ ہائی کورٹ نےلیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو سندھ پولیس کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے یہ حکم عزیر بلوچ کے گینگ کے ہاتھوں سینٹرل جیل کے حوالدار سمیت چار شہریوں کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت میں دیا تھا۔

پولیس کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ گینگ وار کے عزیر بلوچ نے چاروں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ لیاری گینگسٹرعزیر بلوچ کا اعترافی بیان اور جے آئی ٹی پورٹ عدالت میں پیش کی جاچکی تھی۔

پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عزیر بلوچ نے حوالدار امین عرف لالہ ، غازی خان ، شیر افضل خان اور شیراز کو اغوا کے بعد قتل کردیا تھا۔عزیر بلوچ نے 2011میں محمد امین سے بدلہ لینے کیلئے ان افراد کواغوا کے بعد قتل کیااورمقتولین کی لاشیں تیزاب میں پھینکی گئیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز