یونان اشتعال انگیزی سے باز رہے، ترکی


انقرا: یونان کی جانب سے بحیرہ ایجیئن میں متنازع جزیرے پر اپنا پرچم لگانے کے بعد ترکی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یونان کو خبردار کیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے باز رہے۔

یونان اور ترکی کے درمیان واقع بحیرہ ایجیئن کے کچھ جزیروں کی ملکیت پر دونوں ملکوں میں تنازعات پائے جاتے ہیں۔

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ بحیرہ ایجیئن میں واقعہ ترک ساحلی علاقے ”دیدیم” میں یونان کی جانب سے جھنڈا لگایا گیا تھا جسے ترکی کی کوسٹ گارڈ نے ہٹا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونان نے 1996 کی یاد تازہ کردی ہے جب دو نیٹو اتحادی ممالک بحیرہ ایجیئن کے غیرآباد جزیروں پر جنگ لڑنے کے لیے بھی تیار ہو گئے تھے۔

ترک وزیراعظم نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ”یونان کے لیے ہماری تجویز ہے کہ وہ ہر طرح کی اشتعال انگیزی اور تخریب کاری سے باز رہے ورنہ ردعمل ظاہر کیا جا سکتا ہے۔”

ترکی نے یونان کو خبردار کر دیا

گزشتہ دودہائیوں سے یونان اور ترکی کے تعلقات میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں، لیکن حالیہ ہفتوں میں بحیرہ ایجیئن سے متعلق تنازعات اور قبرص کے جزائر میں تیل و گیس کے لیے کھدائی کے معاملے پر ہونے والی کشیدگی نے تناؤ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

ترک وزیرخارجہ چاوش اوغلو نے بحیرہ ایجیئن پر دونوں ممالک میں ہونے والی کشیدگی کا الزام یونانی وزیر دفاع پرعائد کیا اور کہا کہ ” یونانی نیشنلسٹ پارٹی کے اشتعال انگیز رہنما کی نفرت اس حد تک نہیں جانی چاہیے جہاں دونوں ممالک کے تعلقات تباہ ہوجائیں۔”

ایتھنز میں یونان کے ترجمان نے واقعہ سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونانی حکومت کو اس واقعہ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔

انہوں نے ترک وزیراعظم کی جانب سے دیئے گئے بیان کے بارے میں کہا کہ ”مسٹر یلدرم کو لفظوں کے چناؤ میں محتاط رہنا چاہیئے۔ ہم ترکی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بین لااقوامی قوانین کے احترام کے راستے پر واپس آجائے۔


متعلقہ خبریں