امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کی آخری رسومات ادا کردی گئیں


ہیوسٹن: پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کی آخری رسومات ہیوسٹن میں ادا کر دی گئی ہیں۔

جارج فلائیڈ کی آخری رسومات میں سماجی رہنماوں سمیت سیاہ اور سفید فام افراد کی بڑی تعداد نےشرکت کی۔

آخری رسومات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جارج فلائیڈ کے اہلخانہ نے انصاف کی اپیل کی۔ تقریب کے دیگر مقررین نے خطاب میں انہیں مظلوموں کیلئے جدوجہد کرنے والا شخص قرار دیا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں نسلی تعصب کے خلاف مظاہروں نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔

دوسری جانب نسلی تعصب کے خلاف عالمگیر تحریک میں مزید تیزی آئی ہے۔ امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ سے اظہار یکجہتی کیلئے سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بھی احتجاجی مارچ کیا گیا جس میں پانچ ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔

سینیگال میں پولیس تشدد کے خلاف اور جارج فلائیڈ سے اظہار یکجہتی کیلئے گھٹنے ٹیک کر احتجاج کیا گیا۔ فرانس کے دالحکومت پیرس میں آٹھ منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سیاہ فام کی ہلاکت، امریکہ میں پولیس اصلاحات کا مطالبہ زور پکڑ گیا

مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پولیس تشدد اور نسل پرستی کو روکیں  کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ میں سانس نہیں لے سکتا کے نعرہ لگائے گئے۔

کینیا میں’بلیک لائیوز میٹر‘ کے نام سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ امریکی سفارتخانہ کے باہر مظاہرین نے پولیس تشدد کے خلاف  لیٹ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ نیویارک میں ہونے والے احتجاج میں مظاہرین نے پولیس کے فنڈز کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

پولیس حراست میں سیاہ فام امریکی شہری کی ہلاکت کے خلاف امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں مظاہروں کا سلسلہ  جاری ہے۔ مظاہروں کے باعث امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور ان کے فوج تعینات کرنے کے فیصلے کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر نے نے بھی صدر کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج بلانے کی ضرورت نہیں تھی۔

متعلقہ خبریں