نیب نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کی استدعا کر دی

پنجاب برابر کا بھائی نہیں بنے گا تو قائد کا پاکستان نہیں بنے گا،شہباز شریف

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے مسلم لیگ ن پاکستان کے صدر شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کی استدعا کر دی۔

نیب نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست کی مخالفت میں رپورٹ جمع کرا دی۔

نیب حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ شہباز شریف کے خلاف اسٹیٹ بینک کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر انکوائری شروع کی۔ شہباز شریف اور ان کے صاحبزادوں نے 9 کاروباری یونٹس قائم کیے۔

نیب کے مطابق 1990 میں شہباز شریف کے اثاثوں کی مالیت 21 لاکھ روپے تھی جبکہ 1998 میں شہباز شریف اور ان کی اولاد کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 8 لاکھ روپے ہو گئی۔ شہباز شریف نے متعدد بے نامی اکاوَنٹس سے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی۔

نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ شہباز شریف کی درخواست ضمانت ناقابل سماعت ہے اسے مسترد کیا جائے۔

احتساب عدالت لاہور نے رمضان شوگر ملز کیس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو یکم جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔

احتساب عدالت کے جج امجد نذیرچودھری نے رمضان شوگر ملز کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ شہباز شریف کو فرد جرم کے لیے طلب کیا تھا مگر وہ پیش نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں شہباز شریف کا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا مطالبہ

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کے وکیل نے کورونا وائرس کی رپورٹ جمع کروائی جس میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں اور انہوں نے خود کو گھر میں آئسولیٹ کر لیا ہے۔

شہباز شریف کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت تینوں ہفتے کے لیے ملتوی کر دی جائے جس پر عدالت نے حکم صادر کیا کہ شہباز شریف یکم جولائی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز