طیارہ حادثہ: کپتان اور ائر ٹریفک کنٹرولر حادثے کے ذمہ دار قرار

اسلام آباد: قومی ایئر لائن پی آئی اے کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کپتان اور ائر ٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں حادثات کی روک تھام میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے طریقہ کار کو بھی ناکام قرار دے دیا گیا۔

طیارہ حادثے میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی بھی ذمے دار ٹھہرے جبکہ حادثے کی وجوہات میں طیارے میں فنی خرابی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا۔

حادثے کے شکار طیارے کے آلات اور سسٹمزکی جانچ کا کام ابھی جاری ہے جبکہ طیارے کے ڈیٹا فلائٹ ریکارڈر، کاک پٹ وائس ریکارڈر سے ملنے والی معلومات بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔

طیارے کی لاہور سے کراچی پرواز کا ائرٹریفک کنٹرول سے حاصل ریکارڈ بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر غلام سرور سے تحقیقاتی رپورٹ کی بابت استفسار کیا تھا۔

ہم نیوز کو اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے بتایا تھا کہ وفاقی وزیر غلام سرور نے وزیراعظم کی جانب سے کیے جانے والے استفسار پر یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پیر کو ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کردیں گے۔

طیارہ حادثہ: تحقیقات کا دائرہ کار ایئر ٹریفک کنٹرولر تک وسیع کر دیا گیا

عید الفطر کی مناسبت سے خصوصی طور پر چلائی جانے والی پی آئی اے کی پرواز نے لاہور سے دوپہر ایک بجکر دس منٹ پر اڑان بھری تھی اور اپنے مقررہ وقت پر کراچی پہنچ گئی تھی لیکن لینڈنگ سے چند لمحے قبل جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متصل علاقے ماڈل ٹاؤن میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔

پی آئی اے طیارہ حادثے میں دو مسافر خوش قسمتی سے محفوظ رہے تھے جب کہ باقی دیگر تمام مسافر بمعہ اسٹاف اس المناک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔

دوپہر دو بجکر 25 منٹ اور چار سیکنڈ پہ پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں رہائشی علاقے کے مکانات کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

طیارہ حادثہ: وائس رکارڈر، ڈیٹا ریکارڈ باکس لے کر ٹیم فرانس چلی گئی، وزیر ہوا بازی

وفاقی حکومت کی جانب سے فوری طور پر تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی تحقیقات کے لیے فرانس سے بھی ماہرین کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں