اسٹیٹ بینک کو عالمی مالیاتی اداروں سے ایک ارب ڈالر موصول

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو عالمی ما لیاتی اداروں سے ایک ارب ڈالر موصول ہوگئے ہیں۔ 

مرکزی بینک کے مطابق پاکستان کو عالمی بینک سے 50 کروڑ ڈالر اورایشیائی ترقیاتی بینک سے 50 کروڑ ڈالر موصول ہوئے ہیں۔

چند روز قبل اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ مئی میں 94 لاکھ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے شرح سودکم کر کے8فیصد کر دی

اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق جولائی سے مئی کےدوران بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 1.87 ارب روپے رہا جبکہ ملکی نجی شعبےمیں 11 مہینوں میں 2.16 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری شعبے سے 28 کروڑ ڈالر کا انخلا ہوا۔

قبل ازیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اہم سالانہ مالی استحکام کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا شعبہ بینکاری عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کا اہل ہے۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں مالی شعبے کارپوریٹ اداروں اورمالی بازاروں کے انفراسٹرکچرزکی کارکردگی کا تجزیہ پیش کیا گیا۔

ہم نیوز کے مطابق مالی استحکام جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا نے عالمی اورملکی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔

رپورٹ میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان پر بھی اس کے تباہ کن اثرات ابھی پوری طرح سے سامنے آنا باقی ہیں۔

کورونا نے ڈگمگاتی معیشت کو مزید نقصان پہنچایا، معاشی ماہرین

اسٹیٹ بینک کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں لاک ڈاوَن نافذ کرنے کے بعد چند پابندیاں نرم کرنےکی طرف رواں دواں ہیں جس سے معاشی سرگرمیوں کو معاونت ملنی چاہیے۔

جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے متعلقہ فریقین کو سہولتیں دینے کی خاطر متعدد پالیسی اقدامات کیے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے اپنی اہم سالانہ مالی استحکام کی جائزہ رپورٹ برائے سال 2019 میں کہا ہے کہ مانیٹری نرمی کارپوریٹ، ایس ایم ای اداروں اورگھریلوقرض کے لیےاصل رقم کی ادائیگی کاا لتوا شامل ہے۔

متعلقہ خبریں