کراچی طیارہ حادثہ تحقیقاتی رپورٹ میں کیا ہے ؟

کراچی: سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کراچی طیارہ حادثہ کی 21 صفحات پر مبنی رپورٹ جاری کر دی۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے کاک پٹ کریو اور ائر ٹریفک کنٹرولر کی تمام ہسٹری کا جائزہ لیا۔

جاری کردہ عبوری رپورٹ کے مطابق کاک پٹ کریو اور اے ٹی سی کو حادثے کا ذمہ دار قراردے دیا گیا ہے جبکہ  جہاز کے انجن، اے پی یو، ٹیکنیکل لاگ بک، یومیہ اور ہفتہ وار چیک شیٹس کا موازنہ جاری ہے۔

رپورٹ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ویب سائٹ پر آویزاں کر دی گئی ہے۔

PIA Plane Crash Report

اس سے قبل وزیر ہوا بازی غلام سرور پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 22 مئی کو کراچی میں ہونے والا  طیارہ حادثہ پائلٹ اور ائیرٹریفک کنٹرولر کی کوتاہی سے پیش آیا۔

غلام سرورخان  نے کہا کہ کراچی میں قومی ایئر لائن (پی آئی اے) طیارے کا افسوسناک حادثہ ہوا۔ گزشتہ 72 سالوں میں 12 واقعات ہوئے لیکن آج تک کسی واقعہ کی رپورٹ پیش نہیں ہوئی۔ کیا ان حادثات کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا؟

ان کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے کے بعد تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا گیا جبکہ طیارہ حادثے کی شفاف تحقیقات ہو رہی ہیں تاہم ایوان میں آج عبوری رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔

وزیر ہوا بازی نے کہا کہ جن گھروں پر طیارہ گرا ان کا بھی سروے کیا گیا، طیارہ حادثے سے 29 گھروں کو نقصان پہنچا اور ان متاثرہ گھروں کے خاندانوں کو عارضی رہائش دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ طیارے حادثہ جن گھروں پر ہوا وہاں ایک بچی بھی جاں بحق ہوئی تھی۔ ایئر بس ٹیم نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور معلومات جمع کیں۔ تحقیقات میں سینئر پائلٹس کو بھی شامل کیا گیا۔

غلام سرور نے کہا کہ بدقسمت کیبن کریو کے آخری الفاظ انہوں نے خود بھی سنے۔ بدقسمت طیارہ پرواز کے لیے مکمل طور پر فٹ تھا۔ پائلٹس نے دوران پرواز کسی قسم کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی۔

متعلقہ خبریں