سندھ اسمبلی نے نئے مالی سال کا بجٹ منظور کرلیا


کراچی: صوبائی حکومت نے سندھ اسمبلی میں نئے مالی سال کا بجٹ آدھے گھنٹے کے اندر اندر منظور کروالیا، جبکہ نا تجربہ کار اپوزیشن کتوتی کی تحاریک پیش کرنے کے باوجود بحث نہ کر سکی اور شور شرابہ ہی کرتی رہ گئی۔ 

اسپیکر آغا سراج درانی کی زیرصدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس  دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔

اجلاس شروع ہونے کے بعد وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے اسمبلی میں ضمنی بجٹ کے گوشوارے اور مطالبات زر پیش کیے۔

اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے بحث کرنے کی کوشش کی تو اسپیکر سندھ اسمبلی نے انھیں بتایا کہ اپوزیشن کی جانب سے صرف کٹوتی کی صرف چار تحریکیں پیش کی گئیں ہیں اور تجاریک پیش کرنے والی رکن ادیبہ حسن بھی ایوان میں موجود نہیں ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے ضمنی بجٹ پیش کیا اس دوران اپوزیشن اراکین نے ایوان میں شور شرابا کرنا شروع کردیا۔

مزید پڑھیں: وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے 2020-21کا بجٹ پیش کردیا

اپوزیشن ارکان نے سندھ اسمبلی میں نشستوں پر بینرز اٹھاکر احتجاج اور الزام لگایا کہ کسی بھی ادارے کے لیے زیادہ بجٹ رکھنے کی وجہ نہیں بتائی جارہی ہے۔ اپوزیشن نے بجٹ گوشوارے اور مطالبات زر کی وجہ نہ بتانے پر احتجاج کیا

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کے لیے ترقیاتی منصوبے نہ رکھنے کے الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ 72 ارب روپے کراچی کی ترقی پر خرچ کیے جائیں گے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے آنے والے فیصلے پر انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی بھی اخراجات کرتی ہے تو اسمبلی اسکی منظوری دیتی ہے۔ اسکے علاوہ کوئی دوسرا ادارہ ان کے متعلق سوال نہیں کر سکتی لیکن سندھ حکومت عدالت کی عزت کرتی ہے اور اپنا جواب جمع کروائے گی۔

سندھ اسمبلی میں محض آدھے گھنٹے کی بحث کے بعد بجٹ منظور کرلیا گیا اور اجلاس کو 29 جون بروز پیر تک ملتوی کردیا۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز