کرتارپور راہداری کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی پر کھول دیا گیا، دفترخارجہ

اسلام آباد: پاکستان نے کرتارپور راہداری کو مہاراجہ رنجیت سنگھ  کی برسی پر آج شام کھول دیا۔

ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق ابتدائی طور پر سکھ یاتری اور نانک نام لیوا کیلئے راہداری کو کھولا گیا ہے۔ پیر، منگل اور بدھ پاکستانی سکھ برادری کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق جمعرات، جمعہ، ہفتہ اور اتوار بھارتی باشندوں کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ کورونا وبا کے باعث ہر روز زیادہ سے زیادہ 200 یاتریوں کو آنے کی اجازت ہوگی۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتار پورراہداری تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد دوبارہ کھول دی گئی ہے۔

 مزید پڑھیں: کرتار پور راہداری: افتتاحی تقریب میں من موہن سنگھ اور سدھوکی شرکت

ہم نیوز کے مطابق سکھ یاتریوں کا پہلا 23 رکنی گروپ دربار پہنچ گیا ہے۔ کورونا کے پیش نظر ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکام نے کرتار پور کھولنے کے تمام تر انتظامات مکمل کیے تھے۔ کرتارپورگوردوارہ میں سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریب ہو گی۔

کرتار پورگورد وارہ میں کیے جانے والے انتظامات کے تحت مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی مرکزی دعائیہ تقریب منعقد کی گئی۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں دو دن قبل کہا تھا کہ دنیا بھرمیں عبادت گاہیں کھولی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کرتار پور راہداری کھولنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے سلسلے میں 29 جون 2020 کو کھول دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو اس ضمن میں آگاہ کردیا گیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا بھی کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری دوبارہ کھولنے کے لیے بھارت کو آگاہ کر دیا ہے۔

عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کے باعث کرتار پور راہداری 16 مارچ کو بند کردی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز