کورونا پھیل رہا ہے،جلد ختم ہونے کے امکانات کم ہیں: عالمی ادارہ صحت

جنیوا: عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوم نے کہا ہے کہ اب بھی زیادہ تر لوگوں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ یہ وائرس ابھی تک پھیل رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کورونا کی وبا جلد ختم ہونے کے امکانات کم ہیں۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے 5 لاکھ چھ ہزار سے زائد اموات

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے یہ بات ایک پریس بریفنگ میں بتائی۔

انہوں نے کہا کہ سب خواہش مند ہیں کہ یہ وبا ختم ہو جائے اور زندگی پہلے کی طرح رواں دواں ہو جائے مگر سچائی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ مہلک وبا ختم ہونے کے قریب بھی نہیں پہنچی ہے حالانکہ عالمی سطح پر کئی ممالک نے اس ضمن میں کوشش کی ہے۔

’برطانیہ کورونا کی دوسری لہر کیلیے تیار رہے‘

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوماور نے اعتراف کیا کہ اس سلسلے میں کافی پیشرفت ہوئی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہی ہے کہ یہ وبا زیادہ پھیل رہی ہے۔

پریس بریفنگ میں عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی پروگرام کے سربراہ مائیک ریان کا کہنا تھا کہ مہلک وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے محفوظ ویکسین کی تلاش میں بھی پیشرفت ہوئی ہے مگر تاحال اس ضمن میں کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے کہ کی جانے والی کوشش کب کامیاب ہو گی؟

خبر رساں ادارے کے مطابق مائیک ریان کا کہنا تھا کہ جب تک ویکسین تیار نہیں ہو جاتی اس وقت تک تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ بیماری کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ٹیسٹنگ کریں، کورونا مثبت کیسز کے مریضوں کو سماجی تنہائی اختیار کرائیں اوران مریضوں کا جن سے بھی رابطہ رہا ہے انہیں ٹریک کریں۔

کورونا کی دوسری لہر سے کروڑوں لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی پروگرام کے سربراہ مائیک ریان نے جاپان، جرمنی اور جنوبی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو جامع قرار دیتے ہوئے ان ممالک میں اپنائی جانے والی حکمت عملی کی تعریف بھی کی۔

عالمی ادارہ صحت کی سربراہی میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے قائم اتحاد نے جمعہ کے دن مختلف ممالک کی حکومتوں اور نجی خیراتی اداروں سے اپیل کی تھی کہ وہ ٹیسٹس، علاج اور ویکسین کی تیاری کے لیے 31.3 ارب ڈالرز اکٹھا کرنے میں مدد دیں۔

ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 2 لاکھ چھ ہزار سے تجاوز کر گئی

عالمی ادارہ صحت کے مطابق جمعہ تک صرف 3.4 ارب ڈالرز جمع ہوئے تھے جب کہ مزید 27.9 ارب ڈالرز کی خطیر رقم درکار ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز