جہاز اڑانے والے پائلٹس کو کلین چٹ مل چکی ہے، شبلی فراز


اسلام آباد: وزیراطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ قومی ائیر لائن (پی آئی اے) کے جہاز اڑانے والے تمام پائلٹس اسکروٹنی کے عمل سے گزرچکے ہیں اور انہیں کیلن چٹ مل چکی ہے۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ اسلام آباد میں پری کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ پی آئی اے کے معیار کو بحال کرائیں گے۔ پی آئی اے کا ادارہ گزشتہ چند سال سے زوال پزیر ہے۔ پی آئی اے کی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ بحال کرائیں گے۔

وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ ہم نے ہر ادارے سے سوال جواب شروع کیے ہیں۔ یہ پرانی حکومت نہیں ہے جہاں ایک وزیراعلیٰ کہتے تھے ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2010سے نیا لائسنسنگ سسٹم شروع کیا گیا۔ ماضی میں تمام اداروں کو تباہ کیا گیا۔ تحقیقات کے بعد 54 افراد کو گراوَنڈ کردیا گیا۔ مارچ2019میں ہم نے نئی ایوی ایشن پالیسی متعارف کرائی۔

مزید پڑھیں: جعلی لائسنس یافتہ پائلٹس، اہلکار فوجداری مقدمات کا سامنا کریں گے، غلام سرور

علی زیدی نے کہا کہ فارنزک کرائی تو پائلٹس کےلائنسس میں بےضابطگیاں تھیں۔ 236 پائلٹس کےلائسنس میں بے ضابطگیاں تھیں، جن کو فوری طور پر گراؤنڈکیاگیا۔ حکومت کی پہلی ترجیح لوگوں کی حفاظت ہے۔

انہوں نے کہا کہ معطل افراد میں سی اے اے کے 5 لوگ شامل ہیں،جس کی تحقیقات جاری ہیں۔ بےضابطگیوں میں جو جو لوگ ملوث تھے ان کو بھی معطل کردیاگیاہے۔ اداروں کو تباہ کرنے میں سیاست دانوں کا بڑا ہاتھ ہے۔

علی زیدی نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے آئی ٹی سسٹم کو اپ گریڈ اورمضبوط بنایا ہے۔ پی آئی اے بھی دنیا کی ٹاپ ایئرلائن میں آجائے گی۔ پورٹ قاسم کا 2008سے آڈٹ نہیں ہوا، ہم کروا کررہےہیں۔ انکوائری ختم ہونے پر چند ماہ میں سی اے اے دنیا کی ٹاپ ایوی ایشن میں آجائیگی۔

انہوں نے کہا کہ مشاہد اللہ نے پی آئی اے میں جو ڈرامے کیے وہ سب کو پتا ہے۔ مشاہد اللہ نے پی آئی اےمیں ہرجگہ اپنے رشتے دار لگائے ہوئے تھے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ 10سال میں پی آئی اے نیچے اور ذاتی کاروبار اوپر چلے گئے۔ مشاہد اللہ نے پی آئی اے میں ہر جگہ اپنے رشتہ دار لگائے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی لائسنس کا معاملہ سپریم کورٹ کے سوموٹو سے شروع ہوا تھا۔ شاہد خاقان اتنے قابل تھے جو وزیراعظم کے ساتھ ایئر لائن کے مالک بھی تھے۔

شہزاداکبر نے کہا کہ شاہد خاقان اتنے قابل تھے وزیراعظم کے ساتھ ایئر بلیو کے مالک بھی تھے۔ یہ سب حکومتی عہدیدار  اور خاندان کے کاروبار کی وجہ سے سمجھوتہ ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز