سندھ کا وفاق کے مجوزہ تعلیمی نصاب کو ماننے سے انکار

سندھ کابینہ نے 12 کھرب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی

فائل فوٹو

کراچی: حکومت سندھ نے وفاقی حکومت کا تیارکردہ مجوزہ تعلیمی نصاب پر تحفظات کرتے ہوئے ماننے سے انکار کردیا ہے۔ 

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کے اجلاس میں وفاق کی جانب سے ملک بھر میں یکساں تعلیمی نصاب کے مسودے پر غور کیا گیا۔

اجلاس کو وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ایک نصاب بھیجا ہے وہ پورے ملک میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ پورے ملک میں ایک جیسا نصاب ہو۔

مزید پڑھیں:  پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے نئے نصاب کیخلاف درخواست دائر

سعید غنی نے اجلاس کو بتایا کہ سندھ میں معاشرتی علوم کا مضمون کلاس 6 سے 8 ویں تک ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے نصاب میں یہ مسنگ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کواجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ سندھ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اپنا نیا نصاب 21ویں صدی لرننگ اسکل کی رہنمائی میں بنایا ہے۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سندھ حکومت کا نصاب وفاقی حکومت کے نصاب سے بہتر اور جدید ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ تعلیم سندھ اور وفاقی حکومتوں کے بنائے ہوئے نصاب کا موازنہ کرے۔ جو چیزیں وفاقی حکومت کے نصاب میں بہتر ہوں ان کو اپنانے کیلئے وزیراعلیٰ سندھ  سےمنظوری لی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہااٹھارویں ترمیم کے بعد نصاب بنانا صوبائی حکومت کا اختیار ہے۔ سندھ حکومت نیا نصاب خود نوٹی فائی کریگی۔

وزیراعلیٰ سندھ  نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نصابوں کا موازنہ کرکے رپورٹ دی جائے۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے کورونا کے باعث صوبے میں پولیس افسران کے انتقال پردکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ افسران کے پسماندگان کی ہرطرح کی مددکی جائے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز