پارک لین ریفرنس، آصف زرداری پر 6 جولائی کو فرد جرم عائد ہو گی

پارک لین ریفرنس، آصف زرداری پر 6 جولائی کو فرد جرم عائد ہو گی

اسلام آباد: احتساب عدالت نے پاک لین ریفرنس میں 6 جولائی کو سابق صدر آصف علی زرداری پر فرم جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

سابق آصف علی زرداری کی طبیعت خراب ہونے کی صورت گھر یا اسپتال سے ویڈیو لنک پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

رجسٹرار احتساب عدالت اسلام آباد نے قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی کو انتظامات مکمل کرنے کے لیے خط لکھ دیا اور آصف علی  زرداری کی خراب صحت ہونے پر گھر یا اسپتال میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

پارک لین ریفرنس میں آصف علی زرداری پر جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے قومی خزانے کو 3 ارب 77 کروڑ روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ ریفرنس میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر عثمان سیف اللہ، انور سیف اللہ اور سلیم سیف اللہ سمیت دیگر ملزم نامزد ہیں۔

نیب ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں خریدی گئی تقریباً ڈھائی ہزار کنال زمین کی اصل مالیت دو ارب روپے ہے لیکن اسے صرف 62 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔

یہ بھی پڑھیں وفاقی حکومت صوبوں کو مضبوط بنانے کے بجائے کمزور کر رہی ہے، آصف زرداری

گزشتہ سال جولائی میں چیئرمین نیب کی جانب سے پارک لین ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

اس سے قبل آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ حکمران بدقسمتی سے پھر ملک کو مشرف دور کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے حکومت کورونا سے لڑنے کے بجائے حزب اختلاف سے لڑ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا تو ملک دہشت گردی اور نفاق کا شکار تھا تاہم ہم نے قومی اتفاق رائے سے سوات آپریشن کیا اور ملک میں امن لے کر آئے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ ملک میں اناج کا بحران تھا، آٹے پر جھگڑے ہو رہے تھے لیکن ہم نے خود کفیل کیا۔ ہم نے قومی اتفاق رائے سے آئین میں ترامیم کیں اور صوبوں کو حقوق دیے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز