نثارمورائی سے متعلق سندھ حکومت کی جے آئی ٹی رپورٹ ویب سائٹ پر آگئی


کراچی: سندھ حکومت نے سابق چیئرمین فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی نثار مورائی کی جے آئی ٹی رپورٹ محکمہ داخلہ کے ویب سائٹ پر آگئی۔

سندھ حکومت نے سابق چیئرمین فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی نثار مورائی، بلوچ امن کمیٹی کے سربراہ عزیربلوچ اور بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کی جے آئی ٹی رپورٹس پبلک کرنے کے چند لمحے بعد ہی ویب سائٹ ڈاؤن ہوگئی تھی۔

نثار مورائی سے متعلق 9 صفحات پرمشتمل جے آئی ٹی رپورٹ پر 6 میں سے 4 ممبران کے دستخط موجود ہیں۔ رپورٹ پر ملٹری انٹیلی جنس اورپاکستان رینجرز کےنمائندے کے دستخط نہیں ہیں۔ جےآئی ٹی  پر سابق ایس ایس پی ملیر راوانوار کے دستخط موجود ہیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں ملزم نثار مورائی  نے سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقارمرزا کواسلحہ تحفےمیں دینےکا اعتراف کیا ہے۔
جے آئی ٹی رپورٹ میں ملزم نے 4 سے 5 لاکھ روپے مالیت کی رائفل  ذوالفقارمرزا کو تحفے میں دینے کا اعتراف کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملزم کی جانب سے10 لاکھ روپے مالیت کی 2 عدد شارٹ گن بھی تحفے میں دی گئیں۔ ڈاکٹرذوالفقارمرزانے ملزم کوغیرملکی پستول اوررائفل تحفے میں دی۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ملزم کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمدہوا، جن میں 8 کلاشنکوف، 2 امریکی ساختہ ایم فوررائفل، 4 روگررائفل،6 چینی ساختہ ٹرپل 222، 6شارٹ گن،1ایم پی فائیو،2غیرملکی رائفل اورایک پستول بھی برآمدہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم سے 2گلوک پستول،2بریٹاپستول،2ٹورس پستول،1ٹی ٹی اور1لوگرپستول ملی۔  ملزم نے 2011 میں 2کروڑروپے کی دوست کے ذریعے ضلع نوشہروفیروزمیں پیٹرول پمپ اورآئل فیکٹری میں سرمایہ کاری کی۔ سرمایہ کاری کےعوض ملزم کو5لاکھ روپےماہانہ وصول ہوتاتھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ملزم وائس چیئرمین فشریزسلطان قمرصدیقی کےذریعےبھتہ جمع کرتاتھا۔ ملزم نے 2014 میں 70 سے 80 جعلی بھرتیاں کیں، جن میں سے 5نوکریاں گریڈ 17سے 18 کی تھی۔

جےآئی ٹی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2014 میں نثارموروائی سرطان کےعلاج کے لیےامریکا گیا۔ امریکا سفر کے وقت ملزم کے پاس 55 ہزارامریکی ڈالرتھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا تھا کہ  تینوں جے آئی ٹی رپورٹس پیرکو پبلک کردیں گے اور سندھ حکومت کی ویب سائٹ پر یہ دستیاب ہونگیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ وفاقی وزیربرائے بحری امور علی زیدی نے قومی اسمبلی میں عزیربلوچ جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی قیادت پر بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں پیپلزپارٹی قیادت کانام نہیں ہے۔ جے آئی ٹی پر تمام اداروں کے افسران کے دستخط موجود ہیں۔ سندھ حکومت تمام جے آئی ٹیز کو پبلک کرے گی۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ اور عزیربلوچ کی جے آئی ٹیز پبلک کرنےکا نوٹس جاری

ترجمان سندھ حکومت نے کہا تھا کہ وہ علی زیدی کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ جے آئی ٹی میں پیپلزپارٹی قیادت کا ذکر بتائیں۔ علی زیدی کاغذات پڑھنے کے بجائے صرف تبصرے کرتے ہیں۔ اگر علی زیدی چاہیں تو ان کو تمام دستاویزات بھجوا دیتا ہوں۔

خیال رہے کہ 4 جولائی کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما پیپلز پارٹی عبدالقادرپٹیل نے وزارت پورٹ اینڈ شپنگ میں مبینہ کرپشن سے متعلق وائٹ پیپرشائع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رہنما پیپلز پارٹی عبدالقادرپٹیل نے الزام لگایا تھا کہ وزیربحری امور علی زیدی نے پورٹ اینڈ شپنگ میں کرپشن کے نئے رکارڈ قائم کیے ہیں۔

عبدالقادرپٹیل نےعلی زیدی پرٹینڈرزمیں اثراندازہونے کے الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ کروڑوں روپے کے ٹھیکوں کے آڈٹ نہیں کرائے گئے۔

قادرپٹیل نے دعویٰ کیا تھا کہ کے پی ٹی ایکٹ میں ترمیم کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔ کے پی ٹی میں اربوں نہیں،کھربوں کی کرپشن ہورہی ہے۔ کراچی میں صفائی کےنام پراربوں روپےبٹورے گئے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں وزیربارباربےجامداخلت کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز