کارگل جنگ کے شہیدکرنل شیرخان اور لالک جان کی کہانی

کارگل جنگ کے شہیدکرنل شیرخان اور لالک جان کی کہانی

فائل فوٹو

دنیا کے بلند ترین محاذوں میں سے ایک کارگل پر 1999 میں بپا ہونے والا معرکہ ایسے بہادر اور نڈر سپاہیوں کی کہانی ہے جو زندگی پر شہادت کو زندگی پر ترجیح دیتے ہیں۔

معرکہ کارگل میں 27 سندھ رجمنٹ کے کیپٹن کرنل شیر خان کی خدمات ناردرن لائیٹ انفنٹری کے حوالے کر کے  گلتاری کے بلند اور یخ بستہ محاذ پر بھیجا گیا۔

کیپٹن شیر نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے پانچ چیک پوسٹیں قائم کیں اور دشمن پرحملہ آور ہوکراسے پسپائی پرمجبور کر دیا۔ 5جولائی کو بھارتی فوج نے دو بٹالینز کی مدد سے کرنل شیر خان پرحملہ کیا اورایک چیک پوسٹ قبضہ میں لے لی۔

چند گھنٹوں بعد ہی کیپٹن شیر خان اورچند ساتھیوں نے دشمن کی دو بٹالینز کو پسپائی پر مجبور کردیا۔ بھارتی بریگیڈیئرنے خط لکھ کران کی جرات اور اپنی بزدلی کو تسلیم کیا۔

جنگ کے دوران بہادری کے اعتراف میں کیپٹن کرنل شیر خان کو نشان حیدر سے نوازا گیا۔

حوالدارلالک جان

غذر کے گاوں یاسین کا 32 سالہ نوجوان لالک جان کارگل میں اگلے موچوں پر لڑنے کے لئے اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔  جون1999 کے آخری ہفتے رات کے اندھیرے میں  دُشمن کی ایک بٹالین کی نفری نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر حملہ کیا۔

حوالدار لالک جان اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر مختلف پوزیشنوں سے دُشمن پر فائر کرتے اور  ہر مورچے میں جا کر جوانوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ رات بھر لڑائی کے بعد صبح کی روشنی میں دُشمن لاشوں کے انبار چھوڑ کر فرار ہو گیا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہر قمیت پر ملکی دفاع کیلئے بہادری سے ڈٹے رہنا ہی دھرتی ماں کے بیٹوں کا شیوہ ہے۔ مادر وطن کے دفاع کے لئے اپنی جان نچھاور کرنے سے بڑھ کر کوئی اعزاز نہیں، قوم کو اپنے بہادر بیٹوں پر فخر ہے۔

پاک فوج نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید، حوالدار لالک جان شہید کو بہادری، لازوال جذبے اور مثالی قیادت کا درخشندہ باب قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز