چیف جسٹس پاکستان جے آئی ٹیز پر ازخود نوٹس لیں، علی زیدی

اسلام آباد: وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان عزیر بلوچ اور بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹیز پر ازخود نوٹس لیں۔
وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا  کہ گزشتہ رات سے عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی سے متعلق بات کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں اس وقت سیاست صحیح اور غلط کی ہے جبکہ ہم ملک بدلنے کے لیے اقتدار میں آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا فرض غلط کام کو روکنا اور عوام کو حقائق بتانا ہے۔ نبیل گبول نے گزشتہ رات کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ مکمل نہیں ہے۔ جے آئی ٹی میں ایک شخص درجنوں قتل کا اعتراف کرتا ہے لیکن جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ عزیر بلوچ نے قتل کس کے کہنے پر کیے۔

علی زیدی نے کہا کہ لوگ وزیر بننے کے بعد دیگر طریقوں سے رقم بٹورتے رہے ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے صفحہ نمبر 7 میں عزیر بلوچ فریال تالپور سے ملاقات کی بات کرتے ہیں اور آخری صفحے پر کہتے ہیں کہ خدشہ ہے مجھے اور اہلخانہ کو جان سے مار دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عزیر بلوچ کے مطابق سر کی قیمت فریال تالپور اور آصف علی زرداری کے کہنے پر ختم کی گئی اور سینیٹر یوسف کے کہنے پر قائم علی شاہ سے ملاقات کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ رواں سال جنوری میں سندھ ہائی کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اس کے باوجود سندھ حکومت نے رپورٹ پبلک نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ سال 2017 میں چیف سیکرٹری سے جے آئی ٹی رپورٹ مانگی لیکن چیف سیکرٹری نے اس وقت مجھے رپورٹ دینے سے انکار کر دیا تھا اور چیف سیکرٹری کے انکار کے بعد میں نے عدالت سے رجوع کیا۔

بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ مشکل سے جاری کی گئی اور اس رپورٹ میں پولیس کی نااہلی کا ذکر کیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ ہم ملک کو آگے لے جانے کے لیے حکومت میں آئے ہیں۔ ہمارا عزم ملک کی بہتری اور عوام کو حقائق سے روشناس کرانا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز