علی زیدی ملزمان کے لیے راستہ بنا رہے ہیںِ، مراد علی شاہ

اسلام آباد: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ علی زیدی کے اقدام سے لگتا ہے وہ ملزمان کے لیے راستہ بنا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نیب آفس میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے آج طلب کیا تھا میں نے نیب سے درخواست کی تھی کہ ایک ماہ کا وقت دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے 9 جون کو سوالنامہ بھیجا گیا تھا اور 18 جون کو بلا لیا گیا۔ میں نے سندھ روشن پروگرام کے تحت کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ علی زیدی نے غیر ذمہ دارانہ کام کیا انہیں لوگ موٹر سائیکل پررپورٹس دے کر جاتے ہیں۔ عزیر بلوچ کو رینجرز نے گرفتار کیا تھا اور 7 دستخط پر مشتمل جے آئی ٹی وزارت داخلہ میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ علی زیدی کے اقدام سے لگتا ہے وہ ملزمان کے لیے راستہ بنا رہے ہیں۔ ایک وفاقی وزیر کو غیر ذمہ دارانہ بیان اور اقدام زیب نہیں دیتا۔ ایک واقعے کی ایک ہی جے آئی ٹی ہوتی ہے زائد جے آئی ٹیز نہیں ہوتیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ علی زیدی کے اقدام پر انکوائری کون کرے گا ؟ جے آئی ٹی پر تمام ارکان کے دستخط ہیں وہی عدالت میں جمع کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تو محکمہ قانون نے منع کیا تھا کہ جے آئی ٹی کو جاری نہ کریں لیکن سندھ حکومت پر دباوَ تھا جس کی وجہ سے رپورٹ پبلک کی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ روز بھی عزیر بلوچ پر فرد جرم عائد ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو جعلی اکاوَنٹس اور سندھ روشن پراجیکٹ کیس میں نیب راولپنڈی میں طلب کیا گیا تھا۔ جس کے لیے وہ گزشتہ شب کراچی سے اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کو نیب نے 6 جولائی کو طلب کر رکھا تھا تاہم وہ کچھ وجوہات کی بنا پر 6 جولائی کو نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ 4 جون کو مرادعلی شاہ نیب راولپنڈی میں پیش ہوئے تھے۔ ان سے جعلی اکاؤنٹ اورسندھ روشن پروگرام کیس کے متعلق تفتیش کی گئی تھی۔ ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی کی سربراہی میں جے آئی ٹی نے سوالات پوچھے تھے۔

مراد علی شاہ نے تفتیش کے دوران نیب کو بتایا ہے کہ سولر لائٹس منصوبے کی منظوری آئین اور قانون کے مطابق دی گئی تھی۔

پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا تھا کہ نیب نے سولرلائٹس منصوبے کے حوالے سے وضاحت کے لیےبلایا تھا۔ اسٹریٹ لائٹس لگانے کےمنصوبے کی انکوائری تھی۔

یہ بھی پڑھیں:شہباز شریف سے نیب کیا پوچھ رہا ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

وزیراعلیٰ سندھ  کا کہنا تھا کہ سولرلائٹس منصوبے کےوقت میں وزیرخزانہ تھا۔ نیب نے پوچھا کہ بجٹ میں جو اسکیم شامل نہیں تھی منظوری کیوں دی گئی؟

ذرائع کے مطابق مراد علی شاہ نے نیب الزامات سے لا تعلقی ظاہر کی تھی اورکہا تھا کہ کیس میں کرپشن کے الزامات عائد کرنا درست نہیں۔ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

ذرائع کے مطابق نیب تحقیقاتی ٹیم نے مراد علی شاہ سے 2 گھنٹے سے زائد پوچھ گچھ کی تھی اور جعلی اکاوَنٹس سے متعلق بھی سوالات پوچھے گئے تھے۔

مراد علی شاہ کی پیشی کے موقع پر نیب اولڈ ہیڈکوارٹر کے باہر اور اطراف میں پولیس کے دستے تعینات کیے گئے تھے۔

ہم نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ اس مقصد کے لیے خصوصی طیارے سے گزشتہ شب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ اور مشیر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب بھی آئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز