عبدالستار ایدھی کو ہم سے بچھڑے چار سال بیت گئے

عبدالستار ایدھی کو بچھڑے چار سال بیت گئے

کراچی: دکھی انسانیت کے مسیحا ایدھی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے بانی عبدالستار ایدھی کو ہم سے بچھڑے چار سال بیت گئے۔

عبد الستار ایدھی نے زندگی میں کئی چیلنجز کا سامنا کیا مگر ان کی صاف نیت اور مستقل مزاجی نے انہیں ہر میدان میں بینظیر کامیابی سے ہمکنار کیا۔

عبدالستار ایدھی 1928 کو بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کرنے والے عبدالستار ایدھی نے 1951 میں ایک چھوٹے کمرے سے دکھی انسانیت کی خدمت کا آغاز کیا تھا۔

عبدالستار ایدھی نے ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی تو جیسے لاوارث بچوں اور بے سہارا خواتین اور بزرگوں کو سہارا مل گیا۔

ایدھی کی ایمبولنس سروس نے بڑے سانحات سے لے کر چھوٹے حادثات تک میں انسانی خدمت کی وہ مثالیں پیش کیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

اسپتال اور ایمبولینس کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن نے کلینک، زچکی سینٹر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بینک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور اسکول کھولے۔

یہ بھی پڑھیں 2019: 375 نومولود ایدھی قبرستان میں سپرد خاک

1997 گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس ہے۔

عبدالستار ایدھی کی اہلیہ ہر مشن میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔

عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے سماج کی خدمت کا جذبہ خود تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے آئندہ نسل تک منتقل کیا۔

عبد الستار ایدھی 8 جولائی 2016 کو دنیا سے رخصت ہوئے تو ایدھی ولیج میں کھڑے لاوارث بچوں کی زبان پر بے ساختہ آیا کہ ہم ایک بار پھر یتیم ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز