اسٹیٹ بینک کا برآمد کنندگان اور صنعتوں کے لیے شرح سود میں کمی کا اعلان

سال کے آخری روز روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی آ گئی

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے برآمدکنندگان اور صنعتوں کے لیے شرح سود میں کمی کا اعلان کردیا۔

مرکزی بینک کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق صنعتوں کے پھیلاوَاور نئی سرمایہ کاری کے لیے قرض 5 فیصد پر ملے گا۔

اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ بنیادی شرح سود میں کمی کے بعد ری فناس ریٹ کم کیے۔ 17 مارچ سے اب تک بنیادی شرح سود میں 6.25 فیصد کمی کی گئی ہے۔

مرکزی بینک کی طرف سے جاری اعلامیہ کے نان ٹیکسٹائل سیکٹر کےلیے مارک اپ 6 سے کم کرکے 5 فیصد کردیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ سرمایہ کاری پر ٹی ای آر ایف کے تحت مارک اپ 7 سے کم کر کے 5 فیصد کردیا گیا۔ فیصلہ بزنس کمیونٹی کی طویل مدت سرمایہ کاری کے لیے کیا گیا۔

خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں 100بیسز پوائنٹس یعنی ایک فیصد کمی کر کے 7 فیصد کردی تھی۔

اس سے قبل اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کی آخری مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں 100بیسز پوائنٹس یعنی ایک فیصد کمی کر کے 8فیصد کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: شرح سود میں مزید ڈیڑھ فیصد کمی کردی گئی

گزشتہ تیں ماہ کے دوران شرح سود سوا 5 فیصد کم ہو کر7 فیصد پر آگئی تھی۔ جنوری 2020 میں شرح سود13.2فیصد تھی۔ 17مارچ 2020میں شرح سود 12.5 فیصد ہوگئی۔

بینک کے مطابق 24 مارچ 2020 کو شرح سود کمی کے بعد 11 فیصد ہوگئی اور 10 اپریل 2020 کو شرح سود میں مزید کمی کرتے ہوئے شرح سود 9فیصد دی گئی تھی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود کم ہونے سے نئی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پہلے ہی صنعتکار پریشان ہیں۔

اس سے قبل کوورونا وائرس کے پیش نظر ضروری مشینری اور دیگر چیزوں کی درآمد میں آسانی پیدا کرنے کے لیےاسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں مزید 2 فیصد کمی کردی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز