تعلیمی ادارے ایک دم نہیں کھلوائیں گے، مرادراس

اسلام آباد: وزیرتعلیم پنجاب مرادراس نے کہا ہے کہ فی الحال ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے پر اتفاق ہوا ہے لیکن ان کو ایک دم نہیں کھولا جائے۔

ہم نیوز کے پروگرام’صبح سے آگے‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کو کھولنے سے متعلق ایس او پیز وفاق کو بھیج دی ہیں اور ان کو مرحلہ وار کھولا جائے گا۔

مراد راس نے بتایا کہ ہراسکول سینی ٹائز ہوگا اور اس کی صفائی کا خیال رکھا جائے گا۔ ماسک بچے اپنے گھروں سے پہن کرجائیں گے اور اسکولوں میں صرف ہینڈ واشنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا اگست میں بھی تعلیمی اداروں سے متعلق اجلاس بلایا جائے گا اور کورونا وائرس کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اسکول یکم ستمبر سے کھولنے پر اتفاق

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائےتعلیم کا اجلاس میں جس میں اتفاق کیا گیا کہ کورونا کی صورتحال بہتر ہوئی تو ملک بھر میں یکم ستمبر سے اسکول کھولے جائیں گے۔

بائیس اگست کو صورتحال کا جائزہ لیا جائے گااور صورتحال تشویش ناک ہوئی تو تعلیمی ادارے بدستور بند رہیں گے۔

اجلاس میں آل پاکستان پرائیویٹ اسکولزفیڈریشن نےاسکولزاگست تک بند رکھنے کافیصلے مسترد کر دیا ہے۔  پرائیویٹ اسکولزفیڈریشن نے کہا کہ بندش سے 50 فیصد ادارے بند اور 10 لاکھ لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔

کورونا وائرس کے باعث ملک بھر کے تعلیمی ادارے مارچ سے تاحال بند ہیں۔

وفاقی وزیرتعلیم  شفقت محمود کا کہنا ہے کہ نجی سکولوں کی طرف سے تعلیمی ادارے کھولنے کا بہت دباو ہے لیکن ہمارے لیے بچوں کی صحت سب سے اولین ترجیح ہے، جو بھی فیصلہ کریں گے بہت احتیاط سے کیا جائے گا۔

وفاقی حکومت تعلیمی ادارے کھولنے کی حکمت عملی پر یونیسیف سے بھی مشاورت کر رہی ہے۔ وفاقی وزیرتعلیم کے مطابق تعلیمی ادارے کھولنے کا روڈ میپ تیار ہونے کے بعد والدین کو اعتماد میں لے کر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز