حکومت تبدیلی نہیں تباہی لائی ہے، مولانا فضل الرحمان

کراچی: امیر جمعیت العلمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے 2018 کے انتخابات کو فراڈ اور موجودہ حکمرانوں کو جعلی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صاف و شفاف انتخابات قوم کا حق ہیں۔

شہبازشریف کا بلاول بھٹو کو ٹیلی فون، اے پی سی کے انعقاد پر مشاورت

ہم نیوز کے مطابق جے یو آئی (ف) کے زیر اہتمام منعقدہ اے پی سی کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم مرکز کی سطح پر اے پی سی کے انعقاد کی طرف جا رہےہیں۔

انہوں نے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت تبدیلی نہیں تباہی لائی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اپوزیشن ریاست کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔

ملک کی اقتصادی صورتحال کے متعلق امیر جے یو آئی (ف) نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بجٹ کاحجم پچھلے سال کی نسبت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات ختم ہوچکی ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق مولانافضل الرحمان پاکستان میں اقلیتوں کی حیثیت مساوی شہری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کا معاملہ عدالت میں ہے اسے وہیں حل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی دشمن بھی ہے تو اس کے ساتھ بھی انصاف ہونا چاہیے۔

ہم نیوز کے مطابق جے یو آئی (ف) کے زیر اہتمام منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے خلاف تمام سازشیں ختم ہونی چاہئیں۔

جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا راشد سومرو کے مطابق اے پی سی میں سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔

اگر حکومت نے 5 سال مکمل کیے تو ملک نہیں بچے گا، مولانا فضل الرحمان

مولانا راشد سومرو نے اس ضمن میں بتایا کہ اے پی سی میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کے بجائے مرکزی رہنما سینیٹر شیری رحمان شریک ہوئیں۔

ہم نیوز کے مطابق اے پی سی کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں صوبوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بھی اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کریں۔

مشترکہ اعلامیہ میں سیاسی جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں کوئی کمی قبول نہیں ہو گی اور ساتھ ہی زور دیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہر تین ماہ بعد لازمی ہونا چاہیے۔

اے پی سی میں شریک سیاسی جماعتوں کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملک کو بحرانوں سے صرف عوامی نمائندے ہی نکال سکتے ہیں۔

حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ بجٹ کی وجہ سے مہنگائی عروج پر ہے۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے دو سالہ دور میں ریکارڈ قرضے لیے،مہنگائی نےعوام کا جینا دوبھرکردیا اور حکومت کی ناقص پالیسی کے باعث لاکھوں افراد بیروزگار ہو چکے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق اے پی سی اعلامیے میں سیاسی جماعتوں نے واضح مؤقف اپنایا ہے کہ پی آئی اے ملازمین کو بیروزگار نہیں ہونے دیں گے۔

شرکائے اے پی سی کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سی پیک میں بھی رکاوٹ ڈالنے کی حکومتی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔

اپوزیشن مائنس ون نہیں کرسکتی، شاہد خاقان

ہم نیوز کے مطابق اے پی سی کے اعلامیہ میں اسٹیل ملزملازمین کو برطرف کرنے کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز