تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری پر پوچھ گوچھ نہیں ہوگی،وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو بھی کنسٹرکشن میں سرمایہ کاری کرے گا اس سے پوچھا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمزور طبقے کے لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام شروع کیا۔

وزیراعظم: تعمیراتی شعبہ،13رکنی نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد تھا کہ ان کے لیے گھر بنائیں جن کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کیسے چلانی ہے؟ یہ آج ساری دنیا کا مسئلہ ہے کیونکہ پوری دنیا میں کساد بازاری ہے اورمعیشت بیٹھ گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یورپ میں 90 فیصد بینک گھر فنانس کرنے کے لیے پیسے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ قرضے بینک گھروں کی تعمیر کے لیے دیتے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بینک صرف 0.2 فیصد قرضہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعمیرات کے شعبے کو بہت سی مشکلات کا سامنا تھا۔

عالمی اقتصادی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت بیٹھ گئی ہے۔ انہوں نےکہا کہ امریکہ میں معیشت کو چلانے کے لیے تین ہزار ارب روپے کا پیکج دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کنسٹرکشن کے ذریعے معیشت کو کھڑا کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہاوَسنگ پراجیکٹ کا مقصد ہے کہ کنسٹرکشن چلے۔

وزیراعظم: تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کا اعلان

انہوں نےکہا کہ اس ضمن میں تمام صوبوں کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیا پاکستان ہاوَسنگ پروگرام میں 30 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایک لاکھ گھرمیں ہر گھر پر تین لاکھ روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ مرلے کے گھر پر صرف پانچ فیصد سود دینا ہوگا جب کہ دس مرلے کے گھر کے لیے سات فیصد سود کی ادائیگی کرنا ہو گی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت سے نکلنے کے لیے کنسٹرکشن انڈسٹری کی بہت ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 330 ارب روپے کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے رکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی رکاوٹیں دور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کوجیسے جیسے روزگار ملے گا تومعیشت اوپر جائےگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام رعایت صرف سال رواں کے لیے ہے۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ 31 دسمبر تک کا ہمیں ٹائم ملا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی حکومت نے غریب لوگوں کے لیے  گھر بنانے کی خاطر اس طرح کی سہولتیں نہیں دیں۔ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے گھر والوں کی حکومت مدد کرے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ تمام بینکوں سےبات کی ہے کہ اپنے پورٹ فولیو کا پانچ فیصد تعمیراتی شعبوں کے لیے رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرصوبہ ون ونڈو آپریشن پر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی شعبے اور بلڈرز کے لیے ون ونڈو آپریشن شروع کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبےکے لیے ہم نے ٹیکسز کم کیے ہیں۔

تعمیراتی شعبےکو سیلز ٹیکس کی چھوٹ دینےکی منظوری

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کے لیے  یہ رعاتیں صرف اس سال کے لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبوں کے لیے کبھی کسی حکومت نے اس طرح کی آسانیاں پیدا نہیں کیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز