کراچی: دودھ کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر کا من مانا اضافہ

کراچی: کراچی میں ڈیری فارمز مالکان نے دودھ کی فی لیٹر قیمت میں دس روپے کا  من مانا اضافہ کردیا، جس کے بعد شہر میں دودھ 120 روپے فی لیٹر فروخت ہونا شروع ہوگیا۔

شہر میں دودھ کی سرکاری قیمت 94 روپے فی لیٹر مقرر ہے، لیکن ڈیری فارمرز نے ایکس فارم قیمت بڑھا کر دکانداروں کو دودھ مہنگا فروخت کرنا شروع کردیا، جس سے دودھ ریٹیل قیمت بڑھ گئی۔

کمشنر کراچی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دودھ کے نرخوں پر عملدرآمد  کرانے میں ناکام  ہوگئے۔

اس سے قبل ڈیری فارمر ایسوسی ایشن نے لاک ڈاون کو جواز بناتے ہوئے دودھ کی فی لیٹر قیمت ایک سو دس روپے سے ایک سو بیس روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان کردیا، جس پر آج سے عمل درآمد شروع ہوگیا۔

مزید پڑھیں: حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام، 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ

اشیائے ضروریاں میں شمار کیا جانے والا دودھ اب غریب شہریوں کی دسترس سے باہر ہوتا جارہاہے۔

دودھ کی سرکاری قیمت فی لیٹر 94 روپے مقرر کی گئی ہے، لیکن  گزشتہ ایک کے دوران سال دکاندار کھلے عام ایک سو دس روپے فی لیٹر دودھ فروخت کرتے رہے ہیں۔

ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے رکن سندھ اسمبلی ریاض حیدر نے کہا کہ  کمشنر کراچی دودھ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں، اراکین سندھ اسمبلی بھی کمشنر کراچی کی کارکردگی سے مطمین نہیں ہیں۔

دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ ہر مرتبہ دکانداروں پر جرمانے عائد کرتی ہے لیکن کبھی بھی دودھ فروشوں کو دودھ کی قیمتیں کم کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں کراچی میں دودھ فروشوں کی من مانی کی وجہ سے دوھ ایک سو دس روپے کلو فروخت کرنا شروع کیا گیا تھا۔

کراچی میں دودھ 110 روپے لیٹر کے حساب سے فروخت ہونے پر شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم شہری مہنگا دودھ خریدنے پر مجبور تھے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز