فکسنگ کیس، عمر اکمل کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

لاہور:اسپاٹ فکسنگ کی ناکام کوشش و تنازعات سے بھرپور کیرئیر رکھنے والے عمر اکمل کی سزا کم کرنے کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔

لاہور میں موجود نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں خود مختار ایڈجیوڈکیٹرجسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر نے عمر اکمل کی اپیل پر سماعت کی۔

سماعت تین گھنٹے تک جاری رہی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ عمر اکمل کے وکیل طیب رضوی کا کہنا ہے کہ کرکٹر کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن وہ پرامید ہیں کہ آزاد ایڈجوڈیکٹر سے انصاف ملے گا۔

ستائیس اپریل کو جسٹس (ر) فضلِ میراں چوہان نے بطور چیئرمین ڈسپلنری پینل دو مختلف مواقع پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی شق دو اعشارئیہ چار چار کی خلاف ورزی کرنے پر عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائد کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے کرکٹر عمر اکمل پرتین سال کی پابندی لگادی

خیال رہے کہ2018 میں عمر اکمل نے میچ فکسنگ سے متعلق بیان دیا تھا جس کے بعد انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انہیں 2015 کے ورلڈ کپ میں میچ فکس کرنے کی پیشکش ہوئی تھی۔

پی سی بی کی جانب سے اس بیان کو فوری نوٹس لیا گیا تھا جبکہ بورڈ کا انسداد کرپشن یونٹ بھی متحرک ہوگیا تھا۔عمر اکمل کے مطابق ان کو فکسنگ کی پیش کش کرنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر ہیں اور اب امریکہ میں مقیم ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ 2015 کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران کچھ بک میکرزنے ان سے فکسنگ کے لیے رابطہ کیا تھا اورانہیں پرکشش معاوضے کی آفر بھی کی تھی۔

پاکستان سپر لیگ فائیو کے آغاز سے ایک روز قبل ہی فکسنگ کی اطلاعات ملنے پر معطل کرکے انہیں میچ کھیلنے سے روک دیا گیا تھا۔ جس کے بعد عمر اکمل کیخلاف الزمات ثابت ہونے پر انھیں سزا سنائی گئی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے17 اپریل2020 میں کرکٹرعمر اکمل پر تین سال کی پابندی لگائی تھی جب کہ انہیں 20 فروری 2020 کو عبوری طور پر معطل کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز