کنٹریکٹ ملازمین کی درخواست، سپریم کورٹ کا پنجاب یونیورسٹی کو 3 ماہ میں بھرتی کرنے کا حکم

لاہور: سپریم کورٹ نے پنجاب  یونیورسٹی کو 3 ماہ میں اسامیاں مشتہر کر کے بھرتیاں کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں جامعہ پنجاب کے اساتذہ اور ایڈمن اسٹاف کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران وکیل کا کہنا تھا کہ جامعہ کے نو پروفیسر، تین اساتذہ اور ایک ایڈمن کی تعیناتی کنٹریکٹ بنیادوں پر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نےصحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا، آئی جی اسلام آباد طلب

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ کنٹریکٹ بنیادوں پر انتظامیہ نے تعینات کیا اب اس کے خلاف خود جا رہے ہیں، اس پوسٹ پر تعیناتی کے لیے اشتہار نہیں دیے اور ایڈہاک پر لگ گئے۔

وکیل پنجاب یونیورسٹی نے کہا کہ کنٹریکٹ بنیاد پر نوکری پروگرام کے ساتھ ہوتی ہے۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ یہ آسان طریقہ اپنا لیا ہے، ایڈہاک پر رکھ دو اشتہار نہ دو اور پھر مستقل ہو جاؤ۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کیسے ایک شخص کو 15 سال تک کام کرنے دیا اب کہہ رہے ہیں اہل  نہیں تھے۔

دوران سماعت  اساتذہ روسٹرم پر آکر آبدیدہ ہوگئیں، ہمیں کئی سال تک لٹکایا گیا ہم کام کر رہے ہیں کوالیفائیڈ بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے مقدمات اور اپیل دائر کرنے کی تاریخ میں 9 مئی تک توسیع کردی

چیف جسٹس نے دورانِ سماعت استفسار کیا کہ ان سے سوال پوچھ لیں پہلی بار کس کی سفارش پر تعینات ہوئیں، ہم جتنا فائدہ دے سکتے ہیں دیں گے، جامعہ پوسٹ کا اشتہار دے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ رجسٹرار جامعہ کے مطابق تین ماہ میں یہ کام ہو گا، بھرتیوں میں متعلقہ اساتذہ کو ریلکسیشن دے کر ترجیحی بنیادوں پر رکھا جائے۔

عدالت نے پنجاب یونیورسٹی کو 3 ماہ میں اسامیاں مشتہر کر کے بھرتیاں کرنے کا حکم دے دیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز