امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی جنگ میں تیزی آگئی

امریکہ نے ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو سمیت 11 چینی حکام پر پابندیاں لگا دیں

امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی جنگ میں تیزی آگئی ہے اور امریکہ کا ملکی سلامتی کو خطرہ کے باعث چینی سافٹ ویئرز کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ چینی ملکیت والے سافٹ ویئرز کے خلاف جلد کارروائی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام کو ٹک ٹاک سے کوئی خطرہ نہیں ہے، فواد چوہدری

مائیک پومپیو نے کہا کہ ٹک ٹاک ایپ براہ راست کمیونسٹ پارٹی کو ڈیٹا فراہم کررہی ہے، امریکہ میں لاتعداد کمپنیاں ہیں جو شاید چینی حکومت کو ڈیٹا بھیج رہی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ڈیٹا میں چہرے کی شناخت، پتہ اور فون نمبرز شامل ہوسکتے ہیں، صدر ٹرمپ نےکہا ہےاب بہت ہوگیا، ہم اب مسئلہ حل کریں گے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں چینی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹِک ٹاک پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی سکیورٹی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ چینی کمپنی اس ایپ کو امریکیوں کی ذاتی معلومات کو جمع کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نےفوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹک ٹاک سمیت دیگر چینی ایپس پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں ٹک ٹاک سمیت دیگر چینی ایپس پر پابندی عائد کرنے پر غور

ان کا کہنا تھا کہ پابندی کی زد میں مشہور ویڈیو ایپ ٹک ٹاک ایپ بھی آئے گی۔ امریکہ میں 2020 کے پہلے تین ماہ میں 315 ملین افراد نے ٹک ٹاک ایپ ڈاون لوڈ کی تھی۔

امریکہ کے قانون سازوں نےصارفین کی جانب سے  ٹک ٹاک استعمال پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چینی قوانین کے بارے میں پریشان ہیں جن کے تحت نجی کمپنیاں کو وہاں کی خفیہ ایجنسیوں کیساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز