سینیٹ کے خصوصی اجلاس میں کشمیر کے حوالے سے تحریک پیش

انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیمی کا بل سینیٹ میں مسترد

فائل فوٹو

اسلام آباد:کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے بلائے گئے سینیٹ کے خصوصی اجلاس میں  کشمیر پر تحریک پیش کی گئی۔

سینیٹ کا خصوصی اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا جس میں شہید کشمیریوں کی مغفرت کیلیے دعا کی گئی۔

کشمیر پر تحریک مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کی جس کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

تحریک کے متن میں درج ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت بدلنے کے لیے بھارتی آئین میں ترمیم ہوئی، قابض بھارتی افواج ایک سال سے کشمیریوں کی غیر معمولی نسل کشی میں مصروف ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یوم استحصال کشمیر:میں کشمیریوں کاسفیر بنارہوں گا، وزیر اعظم

تحریک پر بحث ے دوران بابراعوان نے اپنے خیالات کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور ادارے کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر خاموش ہے اور آج کشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ کشمیر جانے والے ان تمام راستے شاہراہ سری نگر سے جائیں گے۔

بابر اعوان نے بتایا بھارتی آئین میں لکھا ہے کہ سکھ بھی ہندو سمجھیں جائیں گے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے پیغام دیا کہ وہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ پارلیمنٹ سے بھی منظور کرایا جائے گا۔ جموں و کشمیر، سر کریک، سیاچن، لداخ اور جوناگڑھ پاکستان کا ہے۔ اب جس بھی فورم پر بات ہوگی پاکستان کے نئے سیاسی نقشے کے مطابق موقف سامنے رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کون لے گیا تھا؟

سینیٹرشیری رحمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں دنیا کا سب سے بڑا قبضہ اور کرفیوہے۔ یہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا معاملہ ہے۔ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردارادا کرے۔ کشمیری عوام بھارتی قابض افواج کے مظالم سہ رہے ہیں۔ بھارت کشمیر کاآبادیاتی تناسب تبدیل کررہا ہے۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کسی معاملے کا ملٹری حل نہیں لیکن انڈیا کی جانب سے ملٹری کے زرئعے اقدامات کیے گئے۔ بے نام کشمیریوں سے جیلیں اور قبرستان بھرے پڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراداد میں کشمیریوں کی آزادی کو بھلا دیا گیا ہے۔ دنیا کہتی ہم سانس نہیں لے سکتے کشمیر میں کون سانس لے رہا ہے۔

بین الاقوامی برادری جان بوجھ کر کشمیر کے معاملے کو بھلا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کو چاہیے بھارت کو کشمیر میں نسل کشی سے روکے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز