مودی کو ظلم کا جواب منافقت چھوڑ کے ملکر دینا ہوگا، بلاول بھٹو

مودی کو ظلم کا جواب منافقت چھوڑ کے ملکر دینا ہوگا، بلاول بھٹو

فوٹو: ہم نیوز

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا ہے کہ کشمیر پرسود ا ہوچکا اورحکومت اس میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے سودے کا الزام ہم نہیں کشمیری لگا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیری عوام حکومتی کردارسے مایوس ہوچکےہیں۔

مودی کشمیر پہ قابض ہو چکا، وزیراعظم کہتے ہیں ارتغل دیکھو۔ شہباز شریف

ہم نیوز کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ مودی الیکشن جیتےگا تومسئلہ کشمیر کا حل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے کشمیر پر قبضہ کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت کوگھربھیجنے کانقصان آج تک بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیرپرپیپلزپارٹی کا موقف واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیرپرپیپلزپارٹی نےصف اول کا کردارادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار بھٹو کہا تھا کہ اگر کشمیر کے لیے جنگ لڑنی پڑی تو لڑیں گے۔

فیٹف اور نیشنل ایکشن پلان پر حکومت کا ساتھ دیں گے،بلاول بھٹو

بلاول بھٹو نے کہا کہ پہلے ایک آمر فون کال پرڈرجاتا تھا اورکٹھ پتلی بھی ڈرکرملائیشیا کانفرنس میں نہیں گیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت کے حوالے سے پالیسی بنانی چاہیے۔

چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ فیٹف معاملے پراپوزیشن کی تجاویز لی جاتیں توبہترہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیٹف کے حوالے سے پیپلزپارٹی کی پالیسی واضح ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فیٹف کی آڑمیں غلط پالیسیوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

سلامتی کونسل کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو اٹھانے کا خیر مقدم کرتا ہوں، وزیراعظم

ہم نیوز کے مطابق بلاول بھٹو نے کہا کہ کلبھوشن یا دیوآرڈی ننس پرآئین کی خلاف ورزی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیوآرڈی ننس کوپوشیدہ رکھا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کشمیر کے نہیں کلبھوشن یا دیو کے وکیل ہیں۔

چیئرمین پی پی بلاول بھٹو  نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ کو جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بل پاس کرنے سے پہلے ہمیشہ تقریر کرائی جاتی ہے جس کا فائدہ ہوتا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ کشمیر پر سود ا ہوچکا اورحکومت اس میں ملوث ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ہم نے تو ہر جمعہ کو باہر نکل کر احتجاج کرنا تھا تو وہ کہاں گیا؟

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کشمیر ہائی وے کا نام اب سری نگر ہائی وے کرد یا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں جب کہ پاکستان کے عوام موجودہ حکومت کے کردار سے مطمئن نہیں ہیں۔

پارلیمنٹ: کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلیے قراردادیں منظور

چیئرمین پی پی نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال بعد وزیرخارجہ کو خیال آیا کہ ہمیں میٹنگ بلانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ موجودہ حکومت نے ترکی اورملائیشیا کی بے عزتی کیوں کی؟

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ
موجودہ حکومت نے نریندر مودی کے صرف عمل کی نقل کی اوراس کی طرح اپوزیشن کو گرفتار کیا۔

بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ ہرپاکستانی اورکشمیری کو پتا ہے کہ موجودہ حکومت نے کشمیر کا سودا کیا ہے۔

صدر مملکت:مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے پر حکومت کو مبارکباد

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فیٹف پرعمل کرنے پہ کیوں مجبور ہے؟ تو اس کی وجہ حکومتی کارکردگی ہے۔ انہوں نے عمران خان کو بزدلی کا بھی طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ بزدلی کا مظاہرہ کیا۔

ہم نیوز کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ  مقبوضہ کشمیر پر حملے کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ جنگ نہیں ہوگی۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ حکومت نے ہماری زیادہ ترترامیم تسلیم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک آمر نے پاکستانی شہریوں کو بیچا،۔ انہوں نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ اگر پارلیمنٹ ہی پاکستانی عوام کا تحفظ نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟

کشمیر: امریکہ میں آگاہی مہم شروع، ٹیکسیوں پر آزادی کے بینرز

بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک کے تمام مسائل حل کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیٹف سے متعلق سات سے آٹھ بل باقی رہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیٹف کی آڑ میں ان کو آمرانہ طاقت دینے کو تیار نہیں ہیں۔

پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کس نے پاکستان کو 90 ہزار جنگی قیدی واپس دلوائے تھے؟ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ دہلی اوراسلام آباد نہیں ہوگا بلکہ کشمیری عوام کریں گے۔

بلاول بھٹو نے حکومتی بنچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے عوام آپ کے کردار سے مایوس ہو چکے ہیں۔

حکومت کلبھوشن یادیو کو این آر او دے رہی ہے، بلاول

انہوں نے زور دے کر کہا کہ نریندرمودی کو ظلم کا جواب منافقت چھوڑ کر مل کر دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کے عوام یہ فیصلہ کریں کہ انہیں پاکستان کے ساتھ شامل ہونا ہے؟

بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ انسانی اور جمہوری حقوق کا تحفظ نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام ہم سے سوال پوچھتے ہیں کہ آپ کا وزیراعظم کہا ں ہے؟

چیئرمین پی پی کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کو با ت کرنے دیتے تو قانون سازی بہتر ہوجاتی۔

کشمیری جدوجہد قانونی ہے، ہماری تدبیر مرحلہ وار ہے۔ منیر اکرم

ہم نیوز کے مطابق چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی سے پاکستان اور کشمیر کے عوام مطمئن نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز