کراچی میں بار ش سے150فیڈرز بند، بجلی کی فراہمی معطل


کراچی کے مختلف علاقوں میں  پھر بادل برسنے کے بعد کے الیکٹرک نے ڈیڑھ سو فیڈرز بند کر دیئے ہیں متعدد علاقے تاحال بجلی سے محروم ہیں۔ کرنٹ لگنے سے تین روز کے دوران نو افراد جاں بحق بھی ہو چکے ہیں۔

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ کراچی میں سیفٹی کلیئرنس کے بعد بیشتر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے لیکن نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔

کراچی کےکچھ علاقوں کی احتیاطی طور پر بجلی بند کی گئی ہے۔ گلشن اقبال، بن قاسم اور بلدیہ میں بجلی کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

کراچی میں مون سون کے چوتھے سلسلے میں تین روز تک بارشوں نے جل تھل ایک  کر دیا ہے۔ متعدد سڑکیں زیر آب بھی آئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں آج بارش کا سلسلہ کمزور ہونا شروع ہو جائے گا تاہم شہر قائد میں رات بھر بادل برستے رہے۔

مسرور بیس میں 35، فیصل بیس34، نارتھ کراچی33.6، لانڈھی27.3، صدر 25اولڈ ائیرپورٹ23.4، جناح ٹرمینل، یونیورسٹی روڈ اورجوہر ٹاؤن میں 19.8، کیماڑی17.4اورناظم آباد میں 15ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں سب سے زیادہ بارش سرجانی میں46.9ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ سعدی ٹاوَن میں43.6 اورگلشن حدید میں 36ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

کارساز، بہادرآباد، محمدعلی سوسائٹی اور اسٹیڈیم روڈ پر بارش ہوئی۔ شاہراہ فیصل، ڈالمیا روڈ، آئی آئی چندریگرروڈ، صدر، نیوسندھ سیکرٹریٹ اور گورنرہاؤس کے اطراف بھی بارش ہوئی۔

ہلکی پھلکی بارش سے ہی شہر کی کئی اہم شاہرائیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے والی سڑک   اور  کے ڈی اے چورنگی  پر پانی جمع ہے۔

کلب چوک سے فوارہ، ریجنٹ پلازہ سے عائشہ باوانی اور گارڈن چوک میں بھی پانی کھڑا ہے۔ کراچی میں بارش کا تیسرا دن ہے جہاں بارش کی بوندیں پڑتے ہیں کراچی والوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔

بارش سے ملیر ندی بپھر گئی ہے جس سے پانی کورنگی کاز وے پر آگیا جس کے باعث ٹریفک جام ہوگیا اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بارش کے بعد نکاسی آب کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا ہے۔ کے ڈی اے چورنگی کے اطراف میں پانی کی نکاسی آب کا کوئی انتظام اب تک نہیں کیا جا سکا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز