نیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی، مریم نواز کی پیشی منسوخ


لاہور: قومی احتساب بیورو(نیب) آفس کے باہر ہنگامہ آرائی کے باعث مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدرمریم نواز کی نیب میں پیشی منسوخ کر دی گئی ہے۔

نیب ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مریم نواز کو دوبارہ طلب کیا جائے گا اور آفس کے باہر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے متعلق تفصیلی مؤقف بعد میں جاری ہوگا۔

مریم نواز نیب کے کہنے پر واپس چلی گئیں تھیں لیکن کچھ دیر بعد پھر نیب آفس کے باہر پہنچیں اور انہوں نے کہا کہ’میں آج ہی جواب دے کر جاؤں گی‘۔

مریم نواز نے کہا کہ ، سوال کیا ہے تو جواب بھی سنیں، میں نیب دفتر کے باہر موجود ہوں۔ پولیس نے میری گاڑی پر پتھراؤ کیا جو قابل شرم ہے۔

نائب صدر ن لیگ نے کہا کہ بلایا ہے تو جواب بھی سنیں، حوصلہ نہیں ہے تو سوچ سمجھ کر بلانا چاہیئے تھا۔

مجھے نقصان پہنچانے کے لیے آج بلایا گیا۔ میں کھڑی ہوں ،اب واپس نہیں جاؤں گی۔ بےبنیاد الزامات کاجواب دیکر جاؤں گی۔

مریم نواز قافلے کی صورت میں نیب آفس پہنچی تھیں۔ ہم نیوز کے مطابق مریم نواز کا قافلہ جیسے ہی نیب آفس کے باہر پہنچا تو ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

مریم نواز کو مختلف موضع جات کی  چودہ  سو چالیس  کنال اراضی کے متعلق تفتیش کیلئے طلب کیا گیا تھا۔

ن لیگ نے اپنے ورکرز کو رائیونڈ اور نیب کےلاہور آفس پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔ نیب آفس لاہور کے باہر سیکیورٹی کے انتظامات بھی کیے گئے تھے اور خاردار تاریں لگا کر راستوں کو بلا کیا گیا تھا۔ پولیس کی بھاری نفری نیب آفس کے باہر تعینات تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے مریم نواز سے 1440کنال اراضی کی رسیدیں مانگ لیں

قومی احتساب بیورو لاہور نے نائب صدر مسلم  لیگ ن مریم نواز سے مختلف  موضع جات کی  چودہ  سو  چالیس  کنال اراضی کی رسیدیں مانگی ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق رائیونڈاراضی کیس میں مریم نوازکے بعد نوازشریف اوردادی شمیم بیگم کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔

مریم نوازپر رائیونڈ میں خلاف قانون اراضی سستے داموں خریدنے کا الزام ہے۔ نائب صدر ن لیگ سے پوچھا گیا ہےکہ زمین خریدنے کیلئےرقم کہاں سے آئی۔

اراضی کی خریداری پرکتنا ٹیکس اورکتنی ڈیوٹی دی۔ ایک ہزار400کنال میں سےاگرکوئی زمین فروخت کی گئی تواسکی تفصیلات بھی فراہم کریں۔بتایا جائے حاصل کی گئی زمین کس مقصد کےلیےاستعمال کی جارہی ہے۔

مریم نواز کیخلاف چوہدری شوگرملز کیس بھی عدالت میں زیر سماعت ہے اور وہ اس میں ضمانت پر رہا ہیں۔

نیب کا موقف ہے کہ ن لیگی رہنما نے چوہدری شوگر ملز کے جعلی اکاونٹس چلانے میں اہم کردار ادا کیا اور نیب ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

مریم نواز ایون فیلڈ(لندن فلیٹس) ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں اور انہیں 7 سال قید کی سزا دی گئی مگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی سزا معطل کر رکھی ہے۔

حکومت نے مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈال رکھا ہے اور ان کا پاسپورٹ بھی لاہور ہائی کورٹ کے پاس جمع ہے۔

اس سے قبل نیب نے مریم نواز کو2019 میں  شوگر ملز کیس میں گرفتار بھی کیا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو نیب حکام نے چوہدری شوگر ملز کیس میں آٹھ  اگست کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد اور پی ایم ایل (ن) کے قائد نواز شریف سے ملاقات کے لیے گئی تھیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز