نیب نے شریف خاندان کے ایک اور فرد کو طلب کر لیا

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے شریف خاندان کے ایک اور فرد کو طلب کر لیا۔

نیب کی جانب سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور مریم نواز کے ماموں زاد بھائی محسن لطیف کو 17 اگست کو طلب کر لیا۔

محسن لطیف کو اوقاف کی زمین دینے کے کیس پر طلبی کے نوٹس موصول ہوئے ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، لاہور ڈیولپمنٹ (ایل ڈی اے) اور اوقاف کے افسران بھی تحقیقات میں شامل ہیں۔

آج 12 اگست کو نیب کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی طلب کیا گیا تھا اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نیب کے سامنے پیش ہوئے جہاں انہیں ایک سوالنامہ دیا گیا، نیب نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو 18 اگست کو دوبارہ طلب کیا ہے۔

عثمان بزدار کو اپنے اور فیملی کے اثاثوں سے متعلق تفصیلات بھی جمع کرانے کی ہدایت بھی  کی گئی ہے۔

نیب کی 3 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے وزیر اعلیٰ سے سوال وجواب کیے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے سی ایم پالیسی 2009 سے متعلق پوچھا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سے پوچھا گیا کہ کیا پالیسی کے مطابق نجی ہوٹل کو لائسنس جاری ہوا۔ وزیراعلیٰ نے جواب دیا کہ میرے علم میں نہیں تاہم نیب جو بھی ریکارڈ مانگے گا فراہم کروں گا۔ احتساب کے عمل پر یقین رکھتا ہوں، جب بلائیں گے پیش ہوں گا۔ عثنمان بزدار نے بتایا کہ میرے علم میں نہیں کس نے کتنی رشوت لی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی، مریم نواز کی پیشی منسوخ

قومی احتساب بیورو(نیب) نے ان کو اختیارات سے تجاوز کی شکایات پر طلب کیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے سابق پرنسپل سیکریٹری راحیل صدیقی بھی نیب میں پیش ہوئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کو متعلقہ دستاویزات سمیت بیان ریکارڈ کرنے کےلیے کہا گیا تھا۔ نیب کو شکایت موصول ہوئی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے شراب کا لائسنس جاری کیا۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز