ایف اے ٹی ایف بلز کے ذریعے قوم پر جبر مسلط کیا جارہا ہے، مولانا فضل الرحمان

’جے یو آئی (ف) میں اسلام آباد کا رخ کرنے کی ہمت نہیں‘

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فٖضل الرحمان نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) بلز کے ذریعے قوم پر جبر مسلط کیا جارہا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جوقانون سازی کی گئی اس پر جے یو آئی نے ایک موقف رکھا۔ ان بلز کی جے یو آئی نے مخالفت کی اور پاکستان کے منافی بھی قرار دیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بلز پاس کرانے سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو مشاورت کا وقت دیا جاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی چند جماعتوں کو بلاکر مشورہ کرتے ہیں۔ ایم ایم اے اور کچھ دوسری جماعتوں کو مشاورت سے دور رکھا گیا۔

مزید پڑھیں: کراچی پر وفاق کا کنٹرول غیر قانونی ہوگا، بلاول

انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کے خلاف ہے۔ نہ بلز سمجھنے کا موقع دیا جاتا ہے نہ مشاورت کی جاتی ہے۔ ایف اے ٹی ایف بلز پر ایک اعلامیہ جاری کیا جارہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے بلز کے ذریعے قوموں پر جبر مسلط کیا جارہا ہے۔

سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ حکومت نے اقوام متحدہ کو کشمیر سے متعلق قراردادوں پر عمل کا کیوں نہیں کہا؟ پاکستان دنیا کے دباوَ پر ایف اے ٹی ایف قوانین بنا رہا ہے۔ ہماری سفارتکاری کہاں گئی کہ مسئلہ کشمیر پر بات نہیں ہوئی؟۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر کل ایف اے ٹی ایف کشمیر کے حریت پسندوں کو دہشتگرد قرار دیتی ہے تو کیا کریں گے؟ کشمیری حریت پسندوں کے لیے کوئی گنجائش اس قانون میں نہیں رکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ نااہل حکومت سے بازور قانون سازی کرائی جارہی ہے۔ بلیک لسٹ سے بچانے کے دعوے ہورہے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ہم گرے لسٹ میں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو کشمیر پر قانون سازی پر کیوں مجبور نہیں کیا جاسکا؟ کشمیر پر ہماری سفارتکاری ناکام ہوچکی ہے۔ اب ان قوانین کے بعد پاکستان آزادی سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز