اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں “تاریخی امن معاہدہ” ہوگیا

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جمعرات کے روز ایک تاریخی امن معاہدہ ہوگیا ہے جس بعد مشرقی وسطیٰ کے دونوں اہم ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پر آسکیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں ثالث کا کردار ادا کیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت اسرائیل مغربی کنارے میں واقع فلسطین کے ان علاقوں پر دعویٰ سے دستبردار ہوگا جنہیں وہ  ضم کرنا چاہتا تھا۔

رپورٹس کے مطابق امن معاہدہ اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے مابین طویل گفت وشنید کے بعد ممکن ہوسکا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمدبن زایدالنہیان کے مابین ٹیلی فون کال کے بعد ہوا۔

معاہدے کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ ـیہ تاریخی سفارتی پیشرفت مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن کو آگے بڑھائے گی۔ یہ معاہدہ تینوں رہنماوں کی جرات مندانہ سفارت کاری اور وژن کے باعث ممکن ہوسکا ہے۔  یہ ایک ایسا راستہ ہے جس سے ایک نیا راستہ وضع کیا جاسکتا ہے، جو خطے بڑی صلاحیت کو کھول دے گا۔ـ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اسرائیل اور یو اے ای میں تاریخی امن معاہدہ ہوگیا۔ اسرائیل اور عرب امارات کے وفود اگلے ہفتے ملیں گے۔

شیخ محمد بن زایدالنہیان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ اسرائیل مغربی کنارے کے مزید علاقوں کو اپنے ساتھ شامل نہیں کرے گا۔ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا، شیخ محمدبن زایدالنہیان

خیال رہے کہ  متحدہ عرب امارت اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے والا تیسرا خلیجی عرب ملک بن گیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز